وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت اور اوگرا کے مابین مکالمہ

صنعتکاروں کے چیئرمین اوگرا سے گیس کی شدید قلت اور فرا ہمی میں تعطل پر سوالات

کراچی ( ویب نیوز)ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں ناصر حیات مگوں نے صنعتی اور گھریلو صارفین کے لیے گیس کی مسلسل بڑھتی ہوئی قلت کے سنگین مسئلے پراپنے خدشات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ 30.6 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی شرح سے ایل این جی کی خریداری حیران کن ہے۔ انہو ں نے مزید کہاکہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو پاکستان میں انر جی اور فیول سیکو ریٹی کو برقرار رکھنا نا ممکن ہو جائے گااور پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تباہ ہو جا ئیں گے۔وہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (اوگرا) کے چیئرمین مسرور خان کے فیڈریشن ہاس کراچی میں ایف پی سی سی آئی کے صدر دفتر میں ایک مشاورتی اجلاس منعقد کرنے کے لیے کیے جانے والے دورے کا خیرمقدم کرتے ہو ئے بات کر رہے تھے۔ میاں ناصر حیات مگوں نے کہا کہ گیس کی قلت اور اس کی سپلا ئی میں رکاوٹیں پاکستان کی صنعت کی بقا کا مسئلہ بن چکی ہیں؛ جو کہ معیشت کے لیے قیمتی زرمبادلہ کمانے والے شعبوں کی ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ ایکسپورٹ اور دیگرصنعتیں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور آپس میں اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ ایک سیکٹر یا انڈسٹر ی کے پیداواری سائیکل کا تعطل دوسری انڈسٹر ی کے پیداواری سا ئیکل کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں پیداوار اور روزگار کے مواقع کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے حکومت پاکستان کو ایک قابل بھروسہ اور موثر طریقہ کار وضع کرنا چاہیے تاکہ برآمدی اور غیر برآمدی صنعتوں کو 24/7 گیس فراہم کی جا سکے۔ ایف پی سی سی آئی کے صدر نے اپنی اس تجویز کا اعادہ بھی کیا کہ پرائیویٹ سیکٹر کو ایل این جی امپورٹ لائسنس جاری کیے جائیں تاکہ ڈیمانڈ سپلائی کے بڑھتے ہوئے فرق کو پر کیا جاسکے۔ ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر حنیف لاکھانی نے کہا کہ وہ اس سال ایل این جی کی کم درآمد پر فکر مند ہیں اور وہ بھی بہت زیادہ مہنگی شرح پردرآمد کی گئی ہے؛ جس کے نتیجے میں صنعتی شعبے کا جو بھی معمولی  گروتھ ریٹ باقی ہے وہ بھی ختم ہو جا ئے گا۔حنیف لاکھانی نے حکومت کی بے عملی اور منصوبہ بندی کے فقدان پر بھی اپنی حیرت کا اظہار کیااور اس کے ساتھ ساتھ کسی بھی قسم کی مدد، سہولت یا معاوضہ پیکج نا دینے پر اپنے خدشا ت کا اظہار کیا۔حنیف لاکھانی نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے مسائل اور در پیش رکاوٹوں کی وضاحت کی؛ جن کا سامنا ایکسپورٹ پر مبنی ٹیکسٹا ئل شعبہ گیس کی ناکافی اور مہنگی سپلائی کی وجہ سے کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس شعبے میں کام کرنے والے لاکھوں کارکنوں کے روزگار کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور برآمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل کو شدید خطرات لاحق ہیں۔مسرور خان، چیئرمین اوگرا نے وضاحت کی کہ حکومتی مشینری صنعت کاروں اور گھریلو صارفین کو درپیش مسائل سے پوری طرح آگاہ ہے اور ان مسائل کو 2 نئے ایل این جی ٹرمینلز کے قیام اور آنے والے سالوں میں ایل این جی کارگوز کی تعداد کو خاطر خواہ بڑھاکر حل کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایف پی سی سی آئی کے اعلی تر ین ٹر یڈ پلیٹ فارم کے ذریعے ملک کی تمام 15 سے 20 ایل این جی ایسوسی ایشنز اور الائنسز سے خطاب کر رہے ہیں اور انہیں یقین دلایا   کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے۔ محمد عارف ممبر گیس اوگرا نے پاکستان کے طول و عرض میں ایل این جی اور ایل پی جی کی تقسیم اور فروخت کے نیٹ ورک میں چھوٹے دکانداروں کی طر ف سے حفاظتی معیارات اور بے ضابطگیوں کے سنگین مسائل پر حاضرین کو آگا ہ کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ گھریلو اور چھوٹے پیمانے پر کمرشل استعمال کے لیے گیس فروخت کرنے والی چھوٹی دکانوں پر اسٹینڈرڈز کو نافذ کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اوگرا ایک ایسے نظام کے لیے کام کر رہا ہے جہاں ملک کے ہر گیس سلنڈر کی حفاظت، معیار، سرٹیفیکیشن،ری سرٹیفیکیشن اور ٹریکنگ کے لیے ایک نیشنل سیریل نمبر ہو گا۔ایف پی سی سی آئی کی مرکزی قائمہ کمیٹی برائے ایل این جی کے کنوینر محمد علی حیدر نے کہا کہ گھریلو صارفین جو کہ ایک وقت میں محض صرف ایک سے دو کلوگرام ایل پی جی خریدتے ہیں وہ بھی اب 202.57/کلوگرام روپے کے حساب سے اسے افورڈ نہیں کر سکتے۔ مزید برآں، پاکستان میں صرف 28 فیصد گھرانوں کو پائپ سے قدرتی گیس ملتی ہے اور یہ بھی سردیوں کے موسم میں دستیاب نہیں ہوتی ہے۔اس ہائی پروفائل میٹنگ میں گیس کی صنعت کے بڑے بڑے اداروں کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی، بشمول پارکو ریفائنری، بائیکو ریفائنری، پی ایس او، بروشین گیس، ہیسکول، ایس ایس جی سی، پورٹ قاسم کے پلانٹ آپریٹرز اور نجی شعبے کے دیگر کئی نما ئند ے شا مل تھے۔

By Editor