نیوٹیک کراچی کیمپس کا قیام صنعتوں، باالخصوص معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، میجر جنرل خالد جاوید

کراچی (ویب  نیوز)نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی( نیوٹیک) کے پرو ریکٹر میجر جنرل خالد جاوید نے کراچی میں نیوٹیک کیمپس کے قیام کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں نیوٹیک یونیورسٹی کے کیمپس کے قیام کے لیے قوت ارادی یا توانائی کی کمی نہیں ہے جس کا قیام یقینی طور پر کراچی کی صنعتوں اور بالخصوص پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گا۔ نیوٹیک وفد کے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( کے سی سی آئی) کے دورے کے موقع پر اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جیسا کہ ہم اور آرمی چیف کراچی کے درد کو محسوس کر رہے ہیں لہذا ہم کراچی میں ایک نیوٹیک کیمپس کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اسی وقت حقیقت بن سکے گا جب ہم سب مل کر کام کریں گے۔چیئرمین بزنس مین گروپ( بی ایم ی) و سابق صدر کے سی سی آئی زبیر موتی والا، وائس چیئرمین بی ایم جی جاوید بلوانی، جنرل سیکرٹری بی ایم جی اے کیو خلیل، سینئر نائب صدر کے سی سی آئی عبدالرحمان نقی، نائب صدر قاضی زاہد حسین، رجسٹرار نیوٹیک ڈاکٹر سید عدنان قاسم، سابق صدر کے سی سی آئی اور نیوٹیک یونیورسٹی کے ساتھ رابطے کے لیے فوکل پرسن شارق وہرہ اور کے سی سی آئی کی منیجنگ کمیٹی کے اراکین نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔میجر جنرل خالد جاوید نے کراچی چیمبرکی حمایت باالخصوص زبیر موتی والا، جاوید بلوانی اور شارق وہرہ کے ہمہ وقتی تعاون کو سراہا جنہوں نے کراچی میں نیوٹیک کیمپس کے قیام کے لیے جوش و جذبے کے ساتھ اپنی قیمتی رائے اور تجاویز پیش کیں۔رجسٹرار نیوٹیک ڈاکٹر سید عدنان قاسم نے ایک جامع پریزنٹیشن دیتے ہوئے بتایا کہ نیوٹیک کراچی کیمپس کس طرح سے صنعتوں کی برآمدات اور معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درآمدات کے خاطر خواہ متبادل، صنعتی تکنیکی اپ گریڈیشن اور ڈیولپمنٹ ویلیو ایڈیشن اور ویلیو ایڈڈ برآمدات میں نمایاں اضافے کے لیے بڑے اسٹریٹیجک اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔مشترکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر مبنی نیوٹیک کراچی کیمپس ملک کو درکار ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے درست قدم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں کراچی میں نیوٹیک یونیورسٹی کیمپس کو عملی جامہ پہنانا 21ویں صدی میں پاکستان کی صنعتی و اقتصادی ترقی کی حکمت عملی کی سمت کا تعین کرے گا۔بی ایم جی کے چیئرمین زبیر موتی والا نے کراچی میں نیوٹیک یونیورسٹی کے قیام کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ امر باعث مسرت ہے کہ نیوٹیک ایک تکنیکی ادارہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جسے یقینی طور پر کراچی کو اشد ضرورت ہے تاہم اس منصوبے پر کام جتنا جلد ممکن ہو مکمل کیا جائے۔ جیسا کہ نیوٹیک نے اس یونیورسٹی کو قائم کرنے کے لئے زمین حاصل کر لی ہے لہذا اب وہ ایکسپورٹ ڈیویلوپمنٹ فنڈ سے اس یونیورسٹی کو قائم کرنے کے لئے فنڈز حاصل کرنے کی درخواست کریں گے اور ہم وزارت تجارت سے اپیل کریں گے کہ جیسا کہ اس منصوبے کا مقصد برآمدات کو بڑھانا ہے لہذا اس یونیورسٹی کو بنانے کے لئے ای ڈی ایف سے فنڈز جاری کئے جائیں۔  کے سی سی آئی اس یونیورسٹی کے کراچی میں قیام کو دیکھنے کا بہت خواہشمند ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگرچہ کراچی سے 54 فیصد برآمدات ہوتی ہیں جس کا مطلب ہے کہ برآمدات کے اعداد و شمار 12 سے 14 ارب ڈالر کے درمیان ہوں گے لیکن یہ اعداد و شمار کراچی کی صلاحیت کی عکاسی نہیں کر رہے کیونکہ یہ شہر اس سے کہیں زیادہ صلاحیت رکھتا ہے لیکن ایسا کرنے سے قاصر ہے کیونکہ یہ شہر بدستور امتیازی سلوک کا شکار ہے۔چیئرمین بی ایم جی نے کراچی میں عام صنعتوں کو گیس کی فراہمی کی معطلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کو گیس کی سپلائی تقریباً 940 ایم ایم سی ایف ڈی ہے جس میں سے صنعتیں 380 سے 400 ایم ایم سی ایف ڈی استعمال کرتی ہیں جبکہ عام صنعتیں تقریباً 180 ایم ایم سی ایف ڈی استعمال کرتی ہیں۔ ایس ایس جی سی کو عام صنعتوں کی گیس بند کرنے کے بجائے گیس ہالیڈے کی مؤثر حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے جبکہ ہم ایک دن کی پیداوار قربان کرنے کو تیار ہیں لیکن ہمیں باقی 6 دن مکمل پریشر کے ساتھ مناسب گیس فراہم کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کو 7 حصوں میں تقسیم کیا جائے اور ہر حصے میں ہفتے میں ایک روز گیس لوڈ شیڈنگ کی جائے جس سے یقینی طور پر مسئلہ حل ہو جائے گا اور بہتر لوڈ مینجمنٹ،بغیر کسی مشکلات کے پورے کراچی کو بغیر کسی پریشانی آپریشنل رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ گیس کا یہ مسئلہ آج کی میٹنگ کے ایجنڈے سے باہر نہیں کیونکہ یہ نیوٹیک یونیورسٹی کے اغراض و مقاصد میں رکاوٹیں پیدا کر سکتا ہے جو صنعتکاری کی حوصلہ افزائی اور برآمدی سرپلس پیدا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو ممکن نہ ہو گا اگر گیس، بجلی اور صنعت کے قیام کے لیے درکار دیگر ضروری سامان دستیاب نہ ہو۔زبیر موتی والا نے کراچی میں نیوٹیک کیمپس کے قیام کے لیے جوش و جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ کراچی چیمبر اور تمام انڈسٹریل ٹاؤن ایسوسی ایشنز کراچی میں نیوٹیک یونیورسٹی کے کیمپس کے قیام کی کوششوں کی مکمل حمایت کریں گے جو ملکی معیشت کی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنائے گی۔  سابق صدر کے سی سی آئی اور فوکل پرسن شارق وہرہ نے رجسٹرارنیوٹیک ڈاکٹر عدنان قاسمِ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ کراچی کے لیے نیوٹیک کیمپس کو جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق کورسز خاص طور پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور روبوٹکس وغیرہ کے کورسز فراہم کیے جائیں جو کانسیپٹ پیپر میں موجود نہیں۔ ہمیں  چین جیسے ترقی یافتہ ممالک کے نزدیک آنا ہوگا ورنہ ہم پیچھے رہ جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں اربوں روپے کی لاگت سے بڑے انفرااسٹرکچر کے ساتھ ایک بہت بڑا نیوٹیک کیمپس بنانے میں بہت وقت درکار ہوگا۔اس لیے انتظار کرنے کی بجائے نیوٹیک یونیورسٹی کو چاہیے کہ وہ کراچی میں پی اے ایف یا نیوی کے زیر انتظام کسی بھی ادارے یا پورٹ قاسم پر موجود ٹیکسٹائل انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان جیسے ادارے میںایک ریموٹ انسٹی ٹیوشن قائم کرکے فوری طور پر کراچی میں کام شروع کرے جہاں کافی جگہ دستیاب ہے۔ اس سلسلے میں شارق وہرہ اور کراچی کی صنعتکار برادری کی نمائندگی کرنے والے دیگر بہت سے شرکاء نے مشورہ دیا کہ وہ فوری طور پر کرائے کی جگہ پرنیوٹیک کورسز شروع کریں تاکہ مستقبل کی فیکلٹی کا ڈھانچہ بنایا جاسکے اور ساتھ ہی کراچی میں انسانی وسائل کی کمی کو بھی پورا کیا جا سکے۔

By Editor