بجلی کی قیمت میں حالیہ اضافہ کاروبار اور عوام کی مشکلات میں اضافہ کرے گا۔ محمد شکیل منیر
یوٹیلٹی قیمتوں میں بار بار اضافے نے کاروبار کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ جمشید اختر شیخ، فہیم خان

اسلام آباد ( ویب نیوز )

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدرمحمد شکیل منیر نے کہا کہ حکومت نے اکتوبر کے بجلی کے بلوں میں فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں چار روپے چوہتر پیسے فی یونٹ اضافہ کر دیا ہے جو دسمبر کے بلوں میں شامل ہو گا تاہم یہ ایک سخت فیصلہ ہے کیونکہ اس سے کاروباری طبقے سمیت بجلی صارفین پر ساٹھ ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا جس سے کاروبار کی لاگت بڑھے گی، مہنگائی میں اضافہ ہو گا اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو قرضوں کے بوجھ سے چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے لیکن بجلی و گیس اور تیل کی قیمتوں میں بار بار اضافے اور سٹیٹ بینک کے شرح سود بڑھنے سے کاروبار کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہورہا ہے جس وجہ سے ہمارے لئے عالمی مارکیٹ میں برآمدات کیلئے مقابلہ کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کئی صنعتوں کی پیداوار میں اہم خام مال کا درجہ رکھتی ہے لیکن دسمبر کے بلوں میں بجلی کی قیمت میں چار روپے چوہتر پیسے فی یونٹ اضافے سے پیداواری لاگت بہت بڑھ جائے گی۔


محمد شکیل منیر نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت تیل سے بجلی کی پیداوار پر انحصار کم کرے اور پانی، ہوا اور سمشی توانائی جیسے قابل تجدید ذرائع سے بجلی پیدا کرنے پر توجہ دے جس سے سستی بجلی پیدا ہو گی، کاروبار کی لاگت کم ہو گی، مہنگائی میں کمی واقع ہو گی، سرمایہ کاری اور برآمدات کو بہتر فروغ ملے گا اور معیشت تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہو گی۔
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر جمشید اختر شیخ اور نائب صدر محمد فہیم خان نے کہا کہ حکومت کاروبار کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کی یقین دہانیاں کرا رہی ہے تا کہ کاروباری سرگرمیوں کو بہتر فروغ ملے لیکن حکومت کی طرف سے بجلی و گیس اور تیل کی قیمتوں میں بار بار اضافے سے ایس ایم ایز اور صنعتی شعبے کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایسے فیصلے کرنے سے گریز کرے جس سے کاروبارکی مشکلات میں اضافہ ہو تا کہ صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو بہتر فروغ ملے، برآمدات بہتر ہوں اور معیشت مستحکم ہو۔

By Editor