کارپٹ ایسوسی ایشن کا دیرینہ مسائل سے آگاہی کیلئے وزیر اعظم ،مشیر خزانہ ،مشیر تجارت کوکھلا خط

لاکھوں افغان ہنر مندوں کو ان کے ملک میں روزگار فراہم کرنیوالی صنعت کی مشکلات دو رنہیں کی جارہیں

اسلام آباد/لاہور (  ویب نیوز)پاکستان کارپٹ مینو فیکچررزاینڈ ایکسپورٹرزایسوسی ایشن نے وزیر اعظم عمران خان ،مشیر خزانہ شوکت ترین اور مشیر تجارت عبدالرزاق دائود کو طورخم کے راستے جزوی تیار خام مال منگوانے کی راہ میں حائل رکاوٹوں اورڈالر کے اتار چڑھائو سمیت دیگر مسائل سے آگاہی کیلئے کھلا خط لکھ دیا ۔کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئر پرسن پرویز حنیف اورکارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے گروپ لیڈر عبد اللطیف ملک کی جانب سے لکھے گئے کھلے خط میں کہا گیا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں گھنٹوں کے حساب سے آنے والے اتارچڑھائو کے باعث اضطراب کی صورتحال ہے جس کی وجہ سے غیر ملکی خریداروں سے پائیدار معاہدے کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوتاہے،حکومت کی جانب سے افغانستان کی مدد کیلئے اوآئی سی کے پلیٹ فارم سے وزرائے خارجہ اور امداد دینے والے عالمی اداروں کا پاکستان میں اجلاس خوش آئند ہے لیکن لاکھوںافغان ہنر مند جو اپنے ملک میں موجود رہ کر پاکستانی قالینوںکی تیاری سے روزگار حاصل کر رہے ہیں ان سے جڑے ہوئے مسائل کو حل کرنے کی بجائے انہیں نظر انداز کیا جارہا ہے  ۔ انہوںنے کہا کہ ایک وقت میں پاکستان کے ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت ملک کیلئے ملین ڈالرز سالانہ کا زر مبادلہ حاصل کررہی تھی لیکن بد قسمتی سے حکومت کی سرپرستی حاصل نہ ہونے اور مشکلات بڑھنے سے آج اس کی برآمدات انتہائی کم سطح پر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قالینوں کی صنعت کو ہنر مندوں کی شدید کمی کا سامناہے حالانکہ حکومت اس صنعت کے ذریعے دیہاتوںمیں روزگارکی فراہمی کا انقلاب برپا کرسکتی تھی۔ افغانستان میںموجود لاکھوں ہنر مند قالینوں کی جزوی تیار ی کر کے پاکستان واپس بھجواتے ہیں اوریہاں حتمی تیاری کے بعد یہ مصنوعات برآمد کر دی جاتی ہیں لیکن حکومتی ادارے ہمارے اس نقطے کو سمجھنے کیلئے تیار نہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان،مشیر خزانہ شوکت ترین اورمشیر تجارت عبد الرزاق دائود سے اپیل ہے کہ اگر پاکستان افغانستان کے لاکھوںہنر مندوںکو ان کے ملک میںروزگار فراہم کر کے ان کی مدد کرنا چاہتاہے تو طورخم کے راستے خام مال بھجوانے اوروہاں سے جزوی تیار خام مال کی واپسی کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوںکو فی الفوردور کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں ۔ کھلے خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کوزبوں حالی کا شکار صنعت کی بحالی کیلئے تجاویزپیش کرنا چاہتے ہیں اس لئے ملاقات کاوقت دیا جائے ۔

By Editor