گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر اسلامک فنانشل سروسز بورڈ کونسل کے چیئرمین مقرر

کراچی (ویب  نیوز)گورنر بینک دولت پاکستان ڈاکٹر رضا باقر کو سال 2022 کے لیے کونسل آف اسلامک فنانشل سروسز بورڈ (آئی ایف ایس بی)، ملائیشیا کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ ان کے تقرر کی منظوری ابوظبی، متحدہ عرب امارات میں 9 دسمبر 2021 کو ہونے والے آئی ایف ایس بی کونسل کے 39 ویں اجلاس میں دی گئی۔ قبل ازیں وہ سال 2021 کے لیے آئی ایف ایس بی کونسل کے ڈپٹی چیئرمین کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ڈاکٹر رضا باقر سال 2022 کے لیے آئی ایف ایس بی جنرل اسمبلی کے چیئرمین کے فرائض بھی انجام دیں گے۔ جنرل اسمبلی آئی ایف ایس بی کے تمام ارکان، یعنی مکمل ارکان، ایسوسی ایٹ ارکان اور مبصر ارکان کا نمائندہ ادارہ ہے۔اس موقعے پر گفتگو کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ آئی ایف ایس بی کونسل کی چئیرمین شپ ملنا ان کے لیے بے حد اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے خود پر اعتماد کرنے پر کونسل ارکان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے سال 2021 میں کونسل کی بہترین انداز میں رہنمائی کرنے پر متحدہ عرب امارات کے مرکز ی بینک کے گورنر خالد محمد بالعمی التمیمی سے پرخلوص اظہار تشکر کیا۔گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا کہ وہ اپنے ساتھی کونسل ارکان کے تعاون سے آئی ایف ایس بی کو اپنا مینڈیٹ حاصل کرنے اور آئی ایف ایس بی کے مستقبل بین اور عزائم سے بھرپور اسٹریٹجک پرفارمنس پلان 2022-24 کے مطابق عالمی اسلامی مالیاتی شعبے کو اعلی معیار کی علمی رہنمائی فراہم کرتے رہنے کا عزم رکھتے ہیں۔ انہوں نے آئی ایف ایس بی کو عالمی سطح پر انتہائی ترقی پسند اور مضبوط تعین معیار کا ادارہ بنانے کا بھی عزم ظاہر کیا۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ آئی ایف ایس بی کونسل آئی ایف ایس بی کی سینئر ایگزیکٹو اور پالیسی ساز باڈی ہے۔ یہ آئی ایف ایس بی کے ہر مکمل رکن کے ایک نمائندے پر مشتمل ہوتی ہے اور اس میں اسلامی مالیات پر سرفہرست ضوابطی اور نگرانی سے وابستہ سینئر ایگزیکٹوز شامل ہوتے ہیں۔ فی الوقت آئی ایف ایس بی کے187ارکان ہیں، جو81 ضوابطی اور نگرانی حکام، 10 بین الاقوامی اور بین حکومتی تنظیموں اور 57 علاقوں میں آپریٹ کرنے والیمارکیٹ کے96 فریقوں (مالی ادارے، پیشہ ور فرمیں، صنعت کی ایسوسی ایشن اور اسٹاک ایکس چینج) پر مشتمل ہے۔ دیگر امور کے علاوہ کونسل کو آئی ایف ایس بی کی پالیسیوں اور حکمت عملیوں کی تشکیل اور منظوری اور آئی ایف ایس بی کے ضمنی قوانین کی تیاری اور انہیں پروڈنشیل اور نگرانی معیارات جاری کرنے کے لیے اختیار اور منظور کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے۔ 2003 میں کولالمپور، ملائشیا میں معیارات کا تعین کرنے والی عالمی تنظیم کے طور پر قائم ہونے والا آئی ایف ایس بی اسلامی مالی خدمات کی صنعت کے کئی شعبوں کے حوالے سے اب تک24معیارات،7 رہنما نوٹس اور تین تکنیکی نوٹس جاری کر چکا ہے۔ ان شعبوں میں انتظام خطر، کفایت سرمایہ، نگرانی جائزے کا عمل، شفافیت اور اکتشاف، شریعہ نظم و نسق اور کارپوریٹ نظم و نسق وغیرہ شامل ہیں۔آئی ایف ایس بی کی عالمی اسلامی مالی خدمات کے استحکام کی رپورٹ برائے2021 کے مطابق اسلامی مالی خدمات کی صنعت (اسلامی بینکاری، اسلامی سرمایہ منڈیاں اور تکافل)کی مجموعی مالیت2020 میں2.70ٹریلین ڈالر ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔اسٹیٹ بینک نے اسلامی بینکاری کے ضوابطی اور نگرانی کے انفراسٹرکچر  کو مضبوط بنانے کے لیے گذشتہ برسوں میں موجودہ مقامی قانونی اور ضوابطی ماحول کی رو سے ضروری قطع و برید کے بعد مختلف آئی ایف ایس بی محتاطیہ معیارات اور رہنما خطوط اختیار کیے۔ اسٹیٹ بینک نے آئی ایف ایس بی کا بانی اور مکمل رکن ہونے کی بنا پر اس کے مختلف فورمز پر اس کی نمائندگی کے ذریعے  آئی ایف ایس بی کے اہداف کے حصول میں سرگرم کردار ادا کیا ہے۔پاکستان میں اس وقت 5 جامع اسلامی بینک اور 17 روایتی بینک، مع اسلامی بینکاری کی علیحدہ برانچوں کے حامل، کام کررہے ہیں، جو مختلف اقسام کے شریعت سے ہم آہنگ مالی حل پیش کرتے ہیں۔ جون 2021 میں مجموعی بینکاری شعبے میں اسلامی بینکاری صنعت کے اثاثوں اور ڈپازٹس کا مارکیٹ میں حصہ بالترتیب 17 فیصد اور 18.7 فیصد تھا، جبکہ اسلامی بینکاری اداروں کی شاخوں کی تعداد 3583 اور ونڈوز کی تعداد 1562 تھی۔ پاکستان میں اسلامی بینکاری صنعت کو بتدریج بینکاری صنعت میں ایک اہم جز کی   حیثیت حاصل ہوچکی ہے، جس میں پچھلی دو دہائیوں میں نمایاں نمو درج کی گئی ہے۔

 

By Editor