کراچی چیمبر نے عام صنعتوں کی گیس بندش کے غیر دانشمدانہ فیصلے کو مسترد کردیا

ایس ایس جی سی ہفتے میں ایک روز متبادل ناغہ، بہتر لوڈ مینجمنٹ کی حکمت عملی اختیار کرے، زبیر موتی والا

 کراچی چیمبرکے مئوقف کی تائید کرتے ہیں،سندھ حکومت تاجر برادی کے جائز مطالبے کی حمایت کرتی ہے، امتیاز شیخ

کراچی (ویب  نیوز)چیئرمین بزنس مین گروپ و سابق صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری زبیر موتی والا نے ایس ایس جی سی کی جانب سے غیر بر آمدی عام صنعتوں کی گیس بندش کے غیر دانشمدانہ فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ یہ کرنے کے بجائے ایس ایس جی سی ہفتے میں ایک روز کے لئے متبادل ناغہ کرنے کے ساتھ ساتھ بہتر لوڈ مینجمنٹ کی حکمت عملی اختیار کرے جس سے یقینی طور پر پورا کراچی بغیر کسی مسئلے کے چلتا رہے گا۔ ایک بیان میں انھوں نے سوال کیا کہ جب سی این جی سیکٹر، عام صنعتیں اور حتی کہ گھریلو صارفین کو بھی گیس میسر نہیں تو 940ایم ایم سی ایف ڈی گیس بالآخر کہاں غائب ہو جاتی ہے۔ ایس ایس جی سی کے نظام میں پہنچنے والی940ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی تقسیم کی تفصیلات کی بھی تشہیر کی جائیں تاکہ تاجر و صنعتکار برادری مجموعی طلب و رسد کی صورتحال کا جائزہ لے سکے۔  انھوں نے بتایا کہ مختلف انڈسٹریل ٹائون ایسو سی ایشن کے نمائندے جو ہفتے کو کراچی چیمبر میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں شریک تھے ان سب نے اپنے متعلقہ صنعتی زونز میں تمام اقسام کی صنعتوں کی گیس بندش کی شکایت کی جس کی وجہ سے پیداواری  سرگرمیاں بری طرح سے متاثر ہو رہی ہیں۔زبیر موتی والا نے کہا کہ ایسا لگتا ہے ایس ایس جی سی کی انتظامیہ اس بات سے ناواقف ہے کہ آخر ہو کیا رہا ہے اور وہ صورت حال کو قابو کرنے میں بے بس نظر آتی ہے۔ ایس ایس جی سی کو متبادل گیس ناغہ اور بہتر لوڈ مینجمنٹ کو اپناتے ہوئے نہ صرف پریشان حال تاجر و صنعتکار برادری بلکہ غریب عوام کو بھی ریلیف فراہم کرنا  ہوگا جنہیں بمشکل گیس مل رہی ہے۔چیئرمین بی ایم جی کی رائے کے مطابق ایس ایس جی سی اس وقت جس حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اس کے تحت جنرل صنعتوں کی گیس بند کر دی گئی ہے جبکہ  برآمدی صنعتوں کی سرگرمیاں جاری ہیں۔  عام صنعتوں کو گیس فراہمی بند کردی گئی ہے جو عام صنعتوں اور برآمدی صنعتوں کے درمیان نفرت اور تنائو پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ سراسر ناانصافی ہے کہ برآمدی صنعتوں کے مقابلے میں تعداد کے اعتبار سے زیادہ عام صنعتوں کی گیس منقطع کر دی جائے کیونکہ یہ عام صنعتیں ہی ہیں جو برآمدی صنعتوں کو خام مال مہیا کرتی ہیں لہذا دونوں کی سرگرمیوں کوجاری رکھنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ دونوں ہی پوری چین کا اہم حصہ ہیں بصورت دیگر ملکی معیشت اور برآمدات بری طرح متاثر ہوں گی۔ عام صنعتوں کی گیس بندش کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کے سی سی آئی خاموش نہیں بیٹھے گا اور تمام تر آپشن بشمول ایس ایس جی سی کے ہیڈ آفس کے سامنے ایک بڑا دھرنا دینے کے آپشن پر غور کیا جائے گا جب تک پورے کراچی کو بلاامتیاز ریلیف مہیا نہیں ہوتا۔انھوں نے کہا کہ عام صنعتوں کی گیس بندش کے نتیجے میں نہ صرف بے روزگاری بڑھے گی بلکہ مارکیٹوں میں ضروری اشیاء کی قلت کے باعث مہنگائی میں بھی ہوشربا اضافہ ہوگا۔ مہنگائی کی شرح پہلے ہی 18فیصد پر ہے اور ایسے میں رسد کی راہ میں کسی بھی قسم کے خلل سے عوام کے لئے صورت حال ناقابلِ برداشت ہو جائے گی کیونکہ رسد میں کمی سے قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور نچلے طبقے کی قوت خرید مزید کمزور پڑ جائے گی۔اسی دوران سندھ کے وزیر توانائی امتیازشیخ  نے کراچی چیمبر کے صنعتکاروں کے مئوقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت پورے مسئلے سے بخوبی واقف ہے اور کراچی کی تاجر برادی کو بلاتعطل گیس فراہمی کے جائز مطالبے کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔ کراچی کے ملکی معیشت میں بھرپور کرادر کو مدنظر رکھتے ہوئے  انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ صنعتوں کو گیس بندش کے سنگین نتائج  سامنے آئیں گے لہذا وفاقی حکومت کو اس مسئلے کو پہلی ترجیح دیتے ہوئے حل کرنا ہی ہوگا اور اس مسئلے کے لئے قابل عمل حل نکالنا ہوگا۔

By Editor