ایف بی آر آئی سی سی آئی و دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے نئے پراپرٹی ریٹس کا تعین کرے گا۔ فیض اللہ کموکا
جائیدادوں کے نئے ریٹس کا اطلاق جنوری کی بجائے یکم جولائی سے کیا جائے۔شکیل منیر
کاروبار کے تحفظ کیلئے ایف بی آر پراپرٹی ویلیوایشن کیلئے ٹائم فریم مقرر کرے۔ سردار طاہر محمود

اسلام آباد (ویب نیوز  )

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور محصولات کے چیئرمین فیض اللہ کموکا نے تاجر برادری کو یقین دلایا کہ ایف بی آر آئی سی سی آئی سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے پراپرٹی کی نئی مارکیٹ ویلیو کا تعین کرے گا کیونکہ اس مسئلے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لیے اسلام آباد چیمبر، رئیل اسٹیٹ اور کنسٹرکشن سیکٹر کے نمائندوں کی ان پٹ حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے دوران چیمبر کی رئیل اسٹیٹ اینڈ ڈویلپرز کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جو ایف بی آر کی پراپرٹی ویلیو ایشن پر غور کر کے نئے ریٹس کی تجاویز تیار کرنے کیلئے بلایا گیا تھا۔


فیض اللہ کموکا نے کہا کہ ایف بی آرکی یکم دسمبر کو اعلان کردہ غیر منقولہ جائیدادوں کی نئی مارکیٹ ویلیوایشن سے پیدا ہونے والے مسائل سے حکومت بخوبی آگاہ ہے جبکہ انہوں نے اس معاملے پر چیئرمین ایف بی آر سے بھی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے بہتر حل کے لیے جلد ہی بورڈ آف ریونیو پنجاب اور ایف بی آر کا اجلاس بلایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کمیٹی نے اس مسئلے کو اپنے اگلے اجلاس کے ایجنڈے میں بھی شامل کیا ہے جس میں آئی سی سی آئی کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا جائے گا تاکہ اس معاملے کو اتفاق رائے سے طے کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ نئے ریٹس پرنظرثانی کیلئے ایف بی آر میں ریجنل ٹیکس دفاتر کی سطح پر ویلیوایشن ریویو کمیٹیاں تشکیل دی جا رہی ہیں اور کہا کہ اسلام آباد چیمبر آڑ ٹی او اسلام آباد کی ویلیو ایشن ریویو کمیٹی کیلئے اپنے نمائندگان کے نام ان کو بھیجے تا کہ ان کو بھی مذکورہ کمیٹی میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں نے پاکستان میں رئیل اسٹیٹ شعبے میں ریکارڈ سرمایہ کاری کی ہے اور حکومت کوئی ایسا اقدام نہیں کرے گی جس سے ان کے لیے مسائل پیدا ہوں۔ انہوں نے مزید یقین دلایا کہ وہ اسلام آباد میں ایک نئی انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کے لیے آئی سی سی آئی کی تجویز کے بارے میں وزیر اعظم سے بات کریں گے تا کہ اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے پیش رفت کی جائے۔


اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد شکیل منیر نے کہا کہ ایف بی آر نے یکم دسمبر کو غیر منقولہ جائیدادوں کی مارکیٹ ویلیو میں ایک سو سے چھ سو فیصد تک اضافہ کر دیا تھا جس سے مارکیٹ میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا اور پراپرٹی کی خرید و فروخت ٹھپ ہو گئی تھی جس سے حکومت بھی ٹیکس ریونیو کھو رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بینک قرضہ دینے کیلئے جائیداد گروی رکھتے وقت رئیل اسٹیٹ شعبے سے جائیداد کی ویلیو معلوم کرتے ہیں جبکہ عدالتیں بھی جائیداد کے تنازعات کا فیصلے کرنے کے لیے اسی شعبے سے جائیداد کی ویلیو مانگتی ہیں لیکن یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ ایف بی آر نے اسٹیک ہولڈڑز کی مشاورت کے بغیر یکم دسمبر سے پراپرٹی کے نئے ریٹس طے کئے جو ناقابل عمل تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایف بی آر اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے نئے ریٹس طے کرے تاکہ اس معاملے کو اتفاق رائے سے حل کیا جا ئے اور نئے ریٹس کو یکم جولائی سے لاگو کیا جائے تاکہ اس سال کے جاری جائیدادوں کے لین دین میں کو خلل واقع نہ ہو۔
جمشید اختر شیخ سینئر نائب صدر، فہیم خان نائب صدر آئی سی سی آئی، سردار طاہر محمود صدر اور مسرت اعجاز چیئرمین فیڈریشن آف رئیلٹرز پاکستان، چوہدری محمد مسعود کنوینر آئی سی سی آئی رئیل اسٹیٹ اینڈ ڈویلپر زکمیٹی، چوہدری محمد نصیر صدر اسلام آباد بلڈرز اینڈ ڈویلپرز، چوہدری زاہد رفیق سیکرٹری جنرل اسلام آباد اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن، محمد اعجاز عباسی سابق صدر آئی سی سی آئی، محمد نوید ملک اور طاہر عباسی سابق سینئر نائب صدور، اشفاق چٹھہ سابق نائب صدر اور دیگر نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ ایف بی آر آئی سی سی آئی کی زیر نگرانی اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیار کردہ نئے پراپرٹی ریٹس کو من و عن قبول کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے پاس پراپرٹی ریٹس طے کرنے کا کوئی مناسب طریقہ کار نہیں ہے لہذا پراپرٹی ویلیو طے کرنے کا اختیار ڈی سی کے پاس ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ کاروباری سرگرمیوں کو غیر ضروری مسائل سے بچانے کے لیے ایف بی آر پراپرٹی ویلیوایشن کا ٹائم فریم مقرر کرے اورپراپرٹی ریٹس پر ہر تین سال بعد نظرثانی کی جائے۔
ملک نجیب، خالد محمود، وحید خان، یاسین انجم، اعجاز خان، سید عمران بخاری، راجہ بشیر عباسی، حمید احمد عباسی، عمران منہاس، عطیق الرحمٰن جنجوعہ، ملک عبدالغفور، ملک حبیب، چوہدری مدثر حبیب اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے

By Editor