عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کی پوری کوشش کررہے ہیں، شوکت ترین

جامع اور پائیدار ترقی ہماراہدف ہے

6 سے 8 فیصد ترقی کیلئے ٹیکسوں کی شرح 20فیصد ہونی چاہیے ۔مشیر خزانہ کا سیمینار سے خطاب

اسلام آباد(ویب  نیوز) مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ جامع اور پائیدار ترقی ہماراہدف ہے، 6 سے 8 فیصد ترقی کیلئے ٹیکسوں کی شرح 20فیصد ہونی چاہیے ۔ زراعت اور صنعتی ترقی پر بھرپورتوجہ دے رہے ہیں ۔ ہائوسنگ سیکٹرکو مراعات سے منسلک 40شعبے ترقی کررہے ہیں۔ درآمدات  اور برآمدات میں فرق کم کرنا  ترجیح ہے۔ اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کورونا کے بعد ہماری معیشت نے 4 فیصد کی شرح سے ترقی کی۔ ہماری برآمدات ملک کی مجموعی  پیداوار کا 10جبکہ درآمدات 25فیصد ہے برآمدات اور درآمدات میں نمایاں فرق  سے کرنٹ اکائونٹ خسارہ زیادہ ہے ۔ 2013 میں برآمدات 25 ارب ڈالر تھیں اور 2017 میں 20پر آگئیں۔ ہماری بچت انتہائی کم ہے کرنسی کی قدر کو بہتر کرنے کیلئے ڈالرز کی ضرورت پڑتی ہے۔ سب سے پہلے ہم نے اپنے ریونیو  میں اضافہ کرنا ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ اس سال  ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں ٹیکس کی شرح  پچھلے سال 9فیصد تھی اس سال شاید اس کو ساڑھے گیارہ  فیصد پر لے جائیں اور اگلے سال 14 فیصد پر لے جائیں گے  اور اگلے چار پانچ یا اس سے بھی کم عرصہ میں 20 فیصد پر لے کر جائیں گے ۔ ہم چارہے ہیں کہ ایف بی آر لوگوں کو تنگ نہ کرے لوگ ٹیکس دینا چاہتے ہیں لیکن ڈر کی وجہ سے ٹیکس نیٹ میں ہی نہیں آتے۔ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے لئے  ٹیکنالوجی  استعمال کررہے ہیں اس وقت صرف  2ملین لوگ ٹیکس دیتے ہیں 218 ملین لوگوں میں سے صرف 2  ملین ٹیکس دیتے ہیں 5 سے 6فیصد تک کی معاشی ترقی کیلئے محصولات مجموعی پیداوار کا 20 فیصد ہونی چاہیے سب سے پہلے ہم نے اپنے ریونیو  میں اضافہ کرنا ہے تاکہ حکومت قرضے نہ لے ۔ایگریکلچر کو بڑھانا ہمارا دوسرا بڑا ہدف ہے ۔ ہم نے پچھلے 20,30 سال زرعی شعبے پر  کوئی توجہ نہیں دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زرعی اشیاء کی برآمدات کی بجائے درآمدات پر آگئے ۔ اب ہم گندم، چینی، دالیں درآمد کرتے ہیں زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم زرعی اجناس باہرسے منگوارہے ہیں جس کی بڑی وجہ ہے ہم نے زراعت کے شعبے میں کام ہی نہیں کیا ۔اس شعبے پر توجہ دینے کی بہت ضرورت ہے۔ برآمدات  بڑھانے کیلئے زرعی شعبے کے ساتھ صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہوگا ۔ حکومت نے خام مال  پر ڈیوٹی کی شرح کم کردی ہے ۔ انہوں نے  کہاکہ سابقہ دور میں اضافی بجلی کے باعث غیر استعمال شدہ بجلی کی قیمت بھی ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ آئندہ تین سے چار سال تک نچلی سطح پر بھی معاشی ترقی کے ثمرات منتقل ہوں گے۔ پچھلے سال سے ہمارے ریونیو 35فیصد بڑھ رہے ہیں اس لئے معیشت ترقی کررہی ہے ۔ ہمارا انکم ٹیکس بھی 32 فیصد بڑھ رہا ہے۔ پہلے سیلز ٹیکس اور کسٹم بڑھ جاتا تھا مگر انکم ٹیکس نہیں بڑھتا تھا بجلی کی کھپت پچھلے سال سے 13فیصد بڑھی ہے اگر بجلی کی کھپت بڑھ رہی ہے تو کچھ نہ کچھ تو بڑھ رہا ہوگا انڈسٹری بڑھ رہی ہوگی کوئی اورکام آگے چل رہا ہوگا جہاں تک مہنگائی کا تعلق ہے تو وہ پوری دنیا میں بڑھی ہے ۔ پٹرولیم مصنوعات  ،خوردنی تیل، سٹیل اور خام مال کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ہم  عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں کمی کے رجحان سے عوام کو معاشی فوائد  ملیں گے۔ نوجوانوں کو کاروبار کیلئے بلاسود قرض دے رہے ہیں۔ کاروباری ادارے اپنے ملازمین کو منافع کے تناسب سے مراعات دیں۔

By Editor