ایف بی آر کی پراپرٹی ویلیو ایشن کے بارے میں آئی سی سی آئی میں سٹیک ہولڈرز کا مشاورتی اجلاس
ایف بی آر پراپرٹی کے نظرثانی شدہ ریٹس کو یکم جولائی سے لاگو کرے۔ شکیل منیر
سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ویلیو ایشن ریویو کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔ سردار طاہر محمود
اسلام آباد (ویب نیوز  )

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ایف بی آر کی طرف سے پراپرٹی ویلیوایشن کے معاملے پر ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد کے ذریعے ایف بی آر سے مطالبہ کیا گیا کہ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاوررت سے پراپرٹی ریٹس پر نظرثانی کی جائے اور نظرثانی شدہ ریٹس کو یکم جولائی سے لاگو کیا جائے کیونکہ ریٹس پر ورکنگ کیلئے کم از کم چھ ماہ کا عرصہ درکار ہے۔ اجلاس میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ ایف بی آر کی اسلام آباد کیلئے ویلیو ایشن ریویو کمیٹی آئی سی سی آئی کی زیر نگرانی پراپرٹی کے نظرثانی شدہ ریٹس کا تعین کرے تا کہ نئے ریٹس سب کیلئے قابل قبول ہوں۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد شکیل منیر نے کہا کہ ایف بی آر نے پراپرٹی کے نئے ریٹس کو 16جنوری تک موخر کر کے یکم دسمبر کو جاری کردہ نوٹیفکیشن معطل کر دیا ہے اور ریٹس پر نظرثانی کیلئے تمام چیف کمیشنرز کو 10دسمبر تک ویلیو ایشن ریویو کمیٹیاں تشکیل دینے کی ہدایت جاری کر دی ہے جو ایک بہتر فیصلہ ہے اور تاجر برادری اس کا خیر مقدم کرتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ویلیوایشن ریویو کمیٹیوں میں تمام سٹیک ہولڈرز کو مناسب نمائندگی دی جائے اور ان کی جامع مشاورت سے پراپرٹی ریٹس پر نظرثانی کی جائے تا کہ اس مسئلے کو سب کی متفقہ رائے سے حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر اس مسئلے کو اتفاق رائے سے حل کرنے کیلئے ایف بی آر کے ساتھ ہرممکن تعاون کرنے کو تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے تعمیراتی پیکج کی وجہ سے کنسٹریکشن انڈسٹری وہ واحد انڈسٹری ہے جو ان مشکل حالات میں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے لیکن ایف بی آر نے بغیر مشاورت کے یکطرفہ طور پر یکم دسمبر سے پراپرٹی کے جو نئے ریٹس طے کئے تھے ان کی وجہ سے پراپرٹی شعبے کی کاروباری سرگرمیاں جمود کا شکار ہو گئی تھیں کیونکہ لین دین پر ٹیکس میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے کاروبار ٹھپ ہو گیا تھا اور سرمایہ کار شدید پریشانی کا شکار تھے۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر جب بھی پراپرٹی ریٹس پر نظرثانی کرے تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کرے اور ریٹس میں یکمشت بے جا اضافہ کرنے کی بجائے بتدریج ریٹس پر نظرثانی کی جائے تا کہ کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔
آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر شیخ جمشید اختر، نائب صدر محمد فہیم خان، فیڈریشن آف رئیلٹرز پاکستان کے صدر سردار طاہر محموداور چیئرمین مسرت اعجاز اور، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر اور آباد کے سابق چیئرمین عارف جیوا، اسلام آباد بلڈرز اینڈ ڈویلپرزکے صدر چوہدری محمد نصیر، اسلام آباد اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل چوہدری زاہد رفیق، آئی سی سی آئی کی رئیل اسٹیٹ اینڈ ڈویلپرز کمیٹی کے کنوینر چوہدری محمد مسعود، فاؤنڈر گروپ کے چیئرمین میاں اکرم فرید، اسلام آباد انڈسٹریل ایسوسی ایشن کے صدر طارق صادق، چیمبر کے سابق صدور خالد جاوید، محمد اعجاز عباسی، خالد اقبال ملک اور شیخ عامر وحید، سابق سینئر نائب صدر محمد نوید ملک، چوہدری ندیم الدین، طاہر عباسی، ملک نجیب اور سعد خان اور دیگر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ ایف بی آرنے نئے تعین کردہ ریٹس پر اعتراضات ویلیوایشن ریویو کمیٹیوں میں جمع کرانے کی تاریخ 15دسمبر رکھی ہے جو بہت کم وقت ہے لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس تاریخ کو کم از کم 25دسمبر تک توسیع دی جائے تا کہ سٹیک ہولڈرز کو اعتراضات جمع کرانے کیلئے مناسب وقت مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے پراپرٹی کے نئے ریٹس میں ایک سو سے چھ سو فیصد تک اضافہ کر دیا تھا جو کسی بھی لحاظ سے مناسب فیصلہ نہیں تھا کیونکہ اس سے پراپرٹی کا کاروبار رک گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ویلیو ایشن ریویو کمیٹیوں کو تشکیل دیا جائے تا کہ مکمل مشاورت کے ساتھ پراپرٹی ریٹس پرنظرثانی کی جائے جو سب کیلئے قابل قبول ہو۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ نظرثانی شدہ ریٹس کو جنوری کی بجائے نئے مالی سال یعنی یکم جولائی 2022سے لاگو کیا جائے تا کہ اس وقت پراپرٹی کی خرید و فروخت اور نئی سرمایہ کاری کا جو لین دین چل رہا ہے اس میں کسی قسم کا خلل واقع نہ ہو۔

 

By Editor