ایوان صنعت وتجارت فیصل آباد نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی طرف سے غیر منقولہ جائیدادوں کی قیمتوں میں یکطرفہ اور غیر معمولی اضافہ کو مسترد کردیا

فیصل آباد(ویب  نیوز) ایوان صنعت وتجارت فیصل آباد کے صدر عاطف منیر شیخ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی طرف سے غیر منقولہ جائیدادوں کی قیمتوں میں یکطرفہ اور غیر معمولی اضافہ کو مسترد کرتے ہوئے سٹیک ہولڈرز کی مشاور ت سے نئی قیمتوں کا تعین کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکسٹائل کی طرح رئیل اسٹیٹ کو بھی صنعت کا درجہ دینے کیلئے کوشاں ہے جبکہ اس شعبہ کو ضروری سہولتیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔ اس صورتحال میں ایف بی آر نے ایک ہفتہ قبل زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے غیر منقولہ جائیدادوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا تھا۔ اس سے جہاں غریب لوگوں کا اپنا گھر بنانے کے خواب منتشر ہو گئے وہاں رئیل اسٹیٹ کا یہ شعبہ بھی انتہائی کرب میں مبتلا رہا ۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے نئے نرخوں کو مسترد کر کے ایف بی آر کو از سر نو اِن کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیری اربن ڈویلپمنٹ پلان کے ہوتے ہوئے نئے ماسٹر پلان کی قطعاً ضرورت نہ تھی مگر ایف ڈی اے نے اس پلان کو مزید بہتر بنانے کی بجائے عثمانی اینڈ کمپنی کو 2035ء تک کیلئے نیا ماسٹر پلان تیار کرنے کا ٹھیکہ دے دیا جس نے کراچی میں بیٹھ کے اور گوگل میپ کے ذریعے انتہائی غیر حقیقی پلان تیار کر لیا۔ تاہم فیصل آباد چیمبر کی بروقت مداخلت کی وجہ سے یہ ماسٹرپلان تاحال زیر التواء ہے مگراس کمپنی کو 70سے 80فیصد تک کی ادائیگی بھی کر دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2022-23میں بڑی تعداد میں غیر ملکی سرمایہ کار یہاں صنعتیں قائم کر رہے ہیں جبکہ مجوزہ ماسٹر پلان نئے صنعتی ، تجارتی اور کاروباری تقاضوں سے بھی متصادم ہے جس کی از سر نو تشکیل کیلئے چیمبر اور متعلقہ سٹیک ہولڈرز سے مشاورت ضروری ہے۔

By Editor