سی سی پی آرڈر ، میڈیا انڈسٹری کے اہم کھلاڑیوں کو کمپٹیشن مخالف سرگرمیوں سے باز رہنے کی تنبیہ

اسلام آباد، (ویب نیوز )

کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے میڈیا انڈسٹری میں کمپٹیشن مخالف سرگرمیوں پر ایک آرڈر جاری کرتے ہوئے انڈسٹری کے اہم کھلاڑیوں بشمول پاکستان براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن (پی بی اے)، براڈ کاسٹر ایڈورٹائزرز کونسل (بی اے سی) اور میڈیا لاجک (پرائیویٹ) لمیٹڈ کو خبردار کیا کہ وہ کمپٹیشن مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے گریز کریں۔

یہ آرڈر بول میڈیا نیٹ ورک، لبیک (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور بول انٹرپرائزز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی جانب سے پی بی اے، بی اے سی اور میڈیا لاجک (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے خلاف کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے سیکشن 4 کی خلاف ورزی پر دائر کی گئی شکایت پر انکوائری مکمل کرنے کے بعد دیا گیا۔ بول میڈیا نیٹ ورک نے اپنی شکایت میں الزام لگایا تھا کہ اسے میڈیا لا جک، پی بی اے، بی اے سی اور پاکستان ایڈورٹائزرز سوسائٹی (پی اے ایس) کے درمیان تین مختلف معاہدوںکی بنیاد پر ان اداروں نے ریٹینگ دینے سے انکار کیا ۔ بول میڈیا نیٹ ورک نے ان معاہدوں کوکمپٹیشن مخالف اور کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے سیکشن 4 کی خلاف ورزی قرار دیا۔

معاہدہ نمبر 1، مورخہ 15 جولائی 2018 کو میڈیا لاجک اور پی بی اے کے درمیان عمل میں آیا، جس کے مطابق میڈیا لاجک کو پی بی اے کے علاوہ کسی دوسرے براڈکاسٹر کو خدمات فراہم کرنے سے روک دیا گیا ۔ معاہدہ نمبر 2، نومبر 2017 میں میں پی بی اے اور پاکستان ایڈورٹائزرز سوسائٹی کے درمیان براڈ کاسٹر ایڈورٹائزرز کونسل بنانے کے لیے ایک جوائنٹ وینچر کا معاہدہ تھا۔ اس معاہدے کے مطابق، وہ براڈ کاسٹرز، جو پی بی اے کے ممبر نہیں تھے، براڈ کاسٹر ایڈورٹائزرز کونسل کے ممبربھی نہیں بن سکتے ۔ معاہدہ 3، مورخہ 5 جنوری 2018 کو بی اے سی او ر میڈیا لاجک کے درمیان عمل میںآیا، جس کے تحت بی اے سی میڈیا لاجک کی جانب سے فراہم کردہ خدمات کی توثیق کرے گا ۔ مزید برآں، میڈیا لاجک کسی دوسرے کسٹمر کو ریٹنگ دینے کی صورت میں بی اے سی کی منظوری ضروری ہوگی۔

انکوائری کی سفارشات پر کمیشن نے میڈیا لا جک، پی بی اے، اور بی اے سی کو شو کاز نوٹس جاری کیے اور معاملے کی سماعت شروع کر دی ۔

کیس کی سماعت کے بعد سی سی پی کے دو رکنی بنچ ، جس میں بشریٰ ناز ملک اور مجتبیٰ احمد لودھی شامل تھے، نے پی بی اے، بی اے سی اور میڈیا لاجک (پرائیویٹ) لمیٹڈ پر کوئی جرمانہ عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ سپریم کورٹ نے پہلے ہی ایک کنسینٹ ڈیکری (consent decree) اور ٹیلی ویژ ن آڈی اینس میئرمینٹ

(Television Audience Measurement) ڈیٹا کو ریگولیٹ کرنے والے قانون کے ذریعے شکایت کنندگان کی اہم شکایات کو حل کر دیا تھا ۔

سپریم کورٹ نے اپنے ایک آرڈر سی آر او پی 2018 / 108 کے انسانی حقوق کیس نمبر / 2018 34069میں کہا کہ پیمرا (PEMRA) مذکورہ مارکیٹ کا واحد ریگولیٹر ہوگا اور بول میڈیا نیٹ ورک پیمرا کی رکنیت کے لیے درخواست دے گا اور ریٹنگ کمپنیاں ریگیولیشنز کی پابند ہوں گی اور لائسنس کے شرائط و ضوابط پر عمل کریں گی جن کی بنیاد پر انہیں لائسنس دیا گیا ہے۔

سی سی پی نے بول میڈیا نیٹ ورک کو سپریم کورٹ کے حکم کے ذریعے حل ہونے والی شکایات کے علاوہ کوئی اور شکایت دائر کرنے کے متعدد مواقع دیے، تاہم بول میڈیا نے سی سی پی کو کسی اور شکایت سے آگاہ نہیں کیا۔ سی سی پی نے کمپٹیشن ایکٹ کے سیکشن 31(b) کے تحت جواب دہندگان کو ہدایات جاری کیں کہ وہ مستقبل میں ایسی کسی بھی سرگرمی میں ملوث ہونے سے گریز کریں، کیونکہ مستقبل میں کسی بھی خلاف ورزی کے نتیجے میں سخت کارروائی ہو سکتی ہے۔

 

By Editor