5ماہ میں تجارتی خسارہ20ارب59کروڑ ڈالر تک پہنچنا تشویشناک ہے ،راجہ وسیم حسن

لاہور (  ویب نیوز)تاجر رہنما وانجمن تاجران لوہا مارکیٹ شہید گنج (لنڈا بازار)لاہورکے صدرراجہ وسیم حسن نے 5ماہ میں تجارتی خسارہ20ارب59کروڑ ڈالر تک پہنچنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ  ادارہ شماریات کے اعدادو شمار کے مطابق مالی سال کے پہلے 5ماہ جولائی تا نومبر تک تجارتی خسارہ 20ارب 59کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ گزشتہ برس اسی عرصے کے مقابلے میں تجارتی خسارہ 111.74فیصد بڑھا ہے  اور جولائی سے نومبر تک برآمدات12ارب34کروڑ ڈالرز رہیں اس دوران درآمدات کا حجم 32ارب93کروڑ ڈالرز رہا ۔،درآمدات زیادہ، برآمدات کم ہونے سے تجارتی خسارہ ملکی معیشت کیلئے خطرہ ہے ۔برآمدات میں اضافہ کے باوجود حکومت کو تجارتی خسارے میں مسلسل اضافہ سے بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ جاری کھاتوں کے خسارے کے باعث  ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت اور روپے گراوٹ کا شکار ہے  اس لیے حکومت پرتعیش مصنوعات کی برآمدات کو کنٹرول کرے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے شہید گنج کے تاجروںحاجی خالد محمود ، فرخ منشا ، حافظ کامران ،راجہ نبیل و دیگر کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔راجہ وسیم حسن نے کہاکہ ڈالر کی بڑھتی قیمت روپے گراوٹ کا شکارڈالر 177سے بھی بڑھ گیا ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مہنگائی میں 18.35فیصد اضافہ ہوا  حکومت ڈالر اور پرتعیش مصنوعات کی برآمدات کو کنٹرول کرے۔انہوںنے کہا کہ  حکومت نے موجودہ مالی سال کیلئے برآمدات کا ہدف30ارب ڈالر مقرر کیا ہے جو کہ موجودہ حالات میں غیر حقیقی دکھائی دیتا ہے حکومت کوبرآمدات میں اضافہ کے ساتھ ساتھ درآمدات پر بھی قابو پانے کی ضرورت ہے پرتعیش  اور غیر ضروری مصنوعات کی درآمدات پر بھی قابو پانا ہوگا ۔ برآمدات کی بحالی اور توسیع کے  لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے اس ضمن میں  پاکستانی مصنوعات کے لیے بیرون ملک نئی منڈیوں کی تلاش اور بیرون ملک سفارتخانوں کو فعال کیا جائے تاکہ وہ بیرون ملک پاکستانی مصنوعا ت کی کھپت اور برآمدات میں اضافہ کیلئے اپنا اہم کردار ادا کریں ۔ انہوںنے کہا کہ تجارتی خسارہ میں کمی اور حکومت کی طرف سے پانچ سالوں میں برآمدات کا ہدف پورا کرنے کیلئے صنعتی شعبہ کی پیداواری لاگت میں کمی لائی جائے تاکہ پاکستانی اشیاء کی بیرون ملک کھپت میں اضافہ سے برآمدات میں اضافہ اور تجارتی خسارہ میں کمی ہوسکے۔

 

By Editor