صدر ایف پی سی سی آئی میاں ناصر حیات مگو کی سربراہی میں وفد کی پاکستان میں متعین سعودی عرب کے سفیر سے ملاقات

اسلام آباد(ویب نیوز  )
صدر ایف پی سی سی آئی میاں ناصر حیات مگو کی سربراہی میں وفد کی پاکستان میں متعین سعودی عرب کے سفیر سے ملاقات ۔ دوطرفہ باہمی تجارت کو مضبوط بنانے ، مختلف شعبوںمیں سرمایہ کاری ، بزنس کمیونٹی کے مابین روابط بڑھانے اور وفود کے تبادلوں سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال ۔ وفد میں صدر ایف پی سی سی آئی میاں ناصر حیات مگو کے ہمراہ چیئرمین کیپٹل آفس قربان علی اور چیف کوآرڈینیٹر ایف پی سی سی آئی مرزا عبدالرحمن شامل تھے ۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں ناصر حیات مگو نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا خواہاں ہے کیونکہ دونوں ممالک کے پاس بہت سے شعبوں میں تجارت کو فروغ دینے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ سعودی عرب پاکستان کا ایک اہم تجارتی پارٹنر ہے۔ پاکستان CPEC کے تحت بہت سے خصوصی اقتصادی زونز قائم کر رہا ہے اور سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کو ان رونز میں سرمایہ کاری کے مواقعوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے ۔
انہوں نے وفود کے تبادلے، B2B میٹنگز اور نمائشوں کے انعقاد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ایف پی سی سی آئی کے صدر ناصر حیات میگو نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو تجارتی حجم کو بہتر بنانے کے لیے B2B رابطوں کو مضبوط بنانے، تجارتی وفود کے تبادلے اور تجارتی میلوں میں باہمی طور پر شرکت پر توجہ دینی چاہیے۔قربان علی، چیئرمین کیپٹل آفس اور مرزا عبدالرحمن چیف کوآرڈینیٹر ایف پی سی سی آئی نے بھی دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے مختلف شعبوں میں دو طرفہ تجارت کے امکانات پر روشنی ڈالی اور FPCCI کی سفارش پر حقیقی تاجروں کو کم سے کم وقت میں ملٹی پل انٹری ویزے کی درخواست کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے یہاں سیاحت، تعمیرات، مائننگ، ہائیڈرو، چمڑا، چاول، ڈرائی فروٹ، زراعت سمیت مختلف شعبوں میں وسیع مواقع موجود ہیں سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کو ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔ سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے اور براہ راست راستے سے تجارت کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب دونوں کے پاس بے پناہ قدرتی وسائل ہیں جنہیں دو طرفہ تعلقات کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ چاول، ٹیکسٹائل، سی فوڈ، کھیلوں کے سامان، زرعی مصنوعات میں بہت زیادہ پوٹینشل موجود ہے اور ان اشیا میں دونوں ممالک کے تاجروں کے درمیان براہ راست رابطے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کو ایک بڑھتی ہوئی معیشت کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے کیونکہ یہ پوری امت مسلمہ کے لیے بہت اہم ملک ہے۔ سفیر نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ تجارتی اور سرمایہ کاری تعاون کو مزید وسعت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اقتصادی ترقی کے بہت زیادہ امکانات ہیں جنہیں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے زیادہ موثر طریقے سے اجاگر کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی دنیا میں پاکستان کے بارے میں غلط فہمیوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کی حقیقی معاشی صلاحیت کو کھولا جا سکے۔

 

By Editor