رباہ کا خاتمہ حکومت پر لازم ہوچکا ہے، انور منصور خان ایڈووکیٹ

 آئین کے آرٹیکل38-Fکی روشنی میں رباہ کا خاتمہ پالیسی کا معاملہ ہے

 ملک میں1965سے اب تک آنے والے تمام آئین سودی نظام کے خاتمے کی بات کرتے ہیں

وفاقی شرعی عدالت کو اختیارحا صل ہے کہ شریعت سے متصادم قانون کو خلاف شرع قرار دیدے،سابق اٹارنی جنرل

74سال سے ملک میں سودی نظام چل رہا ہے ،سودی نظام کی وجہ سے ملک کی معیشت تباہ ہوچکی ہے،سراج الحق

 سودی نظام کے خلاف مقدمات میں سابق اٹارنی جنرل اور امیر جماعت اسلامی کے دلائل،وفاقی شرعی عدالت آج (جمعرات کو)بھی جاری رکھے گی

اسلام آباد ( ویب  نیوز)وفاقی شرعی عدالت سودی نظام کے خلاف مقدمات کی سماعت آج (جمعرات کو)بھی جاری رکھے گی،بدھ کو سماعت کے دوران عدالتی معاون سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان ایڈووکیٹ نے موقف اپنایا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کے پاس سودی نظام کے خلاف مقدمات سننے کااختیار ہے ملک میں1965سے اب تک آنے والے تمام آئین سودی نظام کے خاتمے کی بات کرتے ہیں اور رباہ کا خاتمہ حکومت پر لازم ہوچکا ہے، امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے دلائل میں کہا کہ یہ مقدمہ تین دہائیوں سے عدالت میں زیر سماعت ہے اب عدالت1991کی طرح جرات کا مظاہرہ کرے اور اس کیس کاجلدفیصلہ سنائے قوم کی اس عدالت سے بڑی امیدیں ہیں۔ چیف جسٹس محمدنور مسکانزئی کی سربراہی میں جسٹس ڈاکٹرسید محمد انوراور جسٹس خادم حسین پرمشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی توسابق اٹارنی جنرل انورمنصور خان اور امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج اج الحق نے دلائل دیئے ۔ انور منصور خان نے دلائل میں موقف اپنایا کہ آئین کے آرٹیکل38-Fکی روشنی میں رباہ کا خاتمہ پالیسی کا معاملہ ہے اب رباہ کا خاتمہ ریاست پر لازم ہوچکا آئین سازوں نے اس کیلئے دس سال کے وقت کاتعین کیا تھا ،انہوں نے کہا کہ سود استحصال ہے اور آئین کاآرٹیکل تین حکومت کو استحصال کے خاتمے کا پابند بناتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ 2015 میں دیئے گئے ایک حکم میں کہاگیا تھا کہ حکومت سودی نظام کے خاتمے کے لئے اقدامات کرے اور پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کروائے انور منصورکا کہنا تھا کہ آئین کے دیباچہ میں کہا گیا کہ منتخب جمہوری حکومتیںتمام قوانین شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے بنائیں گی کوئی حکومت شرعی حدود سے تجاوز کرنے کا اختیار نہیں رکھتی ،پاکستان واحد ملک ہے جس نے اسلامی جمہوری ریاست کا تصور دیا،ر پاکستان کا اسلامی جمہوری روایت کا تصورلیبیا نے بھی اپنایامعاملات میں جدت اختیارکرنے کامقصد ہرگز اسلامی حدود سے تجاوز کرنانہیں ہے آئین کے تحت لازم ہے کہ شریعت سے ہم آہنگ کرے ،حکومت کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتی جوشریعت سے متصادم ہو،شریعت کورٹ کو اختیار حاصل ہے کہ شریعت سے متصادم قانون کو خلاف شرع قرار دے دے انور منصوخان نے کہا کہ ریاست پرلازم ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو رباہ ختم کر کے زکواة و عشرکا نظام نافذکرے۔اس دوران عدالتی اجازت سے دلائل دیتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہاکہ 74سال سے ملک میں سودی نظام چل رہا ہے ،مشیرخزانہ نے اعتراف کیا ہے کہ غریب اور امیر کے درمیان فرق بڑھ رہا ہے ،بنی اسرائیل کی قوم بھی اسی لئے تباہ ہوگئی کہ وہ اللہ کے قانون پر مکمل عمل درآمد نہیں کرتی تھی،سودی نظام کی وجہ سے ملک کی معیشت تباہ ہوچکی ہے ۔ سراج الحق نے کہاکہ 33ہزار ارب سے زائد رقم ہم سود کی مد میں ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ 1991میں اس عدالت نے جرات کا مظاہرہ کرکے سود کے خاتمے کا فیصلہ دیا اس بینچ کوبھی آج اللہ نے موقع دیاہے یہ بھی جرات کا مظاہرہ کرے،اب حالت یہ ہے کہ ہمارے ایک دوست ملک نے خیرات بھی سود پر دی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکمران اس وقت تک کوئی اقدام نہیں کرتے جب تک عوام سڑکوں پر آکر راستے بند نہ کردیں ۔جاپان سمیت کئی ممالک سود فری نظام کی جانب بڑھ رہے ہیں ۔ سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان نے عدالت سے کہاکہ وہ آج(جمعرات اور کل جمعہ کو)اپنے دلائل ختم کرلیں گے ،۔عدالت نے کیس کی سماعت آج (جمعرات )دس بجے تک ملتوی کردی ہے ۔

By Editor