مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ معیشت کیلئے تباہ کن ہو گا فوری اصلاح کی جائے۔ شکیل منیر
عوام کی قوت خرید کم ہونے سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔ جمشید اختر شیخ
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی کا فائدہ عوام کو دیا جائے۔ فہیم خان
اسلام آباد ( ) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد شکیل منیر نے کہا کہ نومبر میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 11.5 تک پہنچ گئی ہے جو گزشتہ 20 ماہ میں سب سے بلند ترین سطح پر ہے لہذا یہ صورتحال پالیسی سازوں کیلئے لمحہ فکریہ ہونی چاہیے کیونکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی عوام کی قوت خرید میں بہت کمی کرے گی جس کے کاروباری اور معاشی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ نومبر میں شہری علاقوں میں اشیائے خوردونوش کی مہنگائی میں 11.9 فیصد اضافہ ہوا ہے، حساس قیمتوں کے اشاریے سے ماپی جانے والی اوسط مہنگائی 18 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہول سیل پرائس انڈیکس میں 27 فیصد اضافہ ہو ا ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ عام آدمی اور کاروباری شعبے کے لیے حالات مشکل تر ہوتے جا رہے ہیں لہذا انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام اور کاروباری شعبے کو مزیدمشکلات سے بچایا جا سکے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مہنگائی کے بارے میں تاجروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
محمد شکیل منیر نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ، پالیسی شرح سود میں بے تحاشہ اضافہ، بجلی اور گیس کے نرخوں میں مسلسل اضافہ، روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قدر اور ٹیکسوں کے زیادہ ریٹس وہ اہم عوامل ہیں جنہوں نے مہنگائی میں بہت اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے فریٹ چارجز میں بھی اضافہ کر دیا ہے جس سے بین الاقوامی تجارت مہنگی ہو گئی ہے جبکہ اس سے ہماری برآمدات کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے پرائس کنٹرول کا ایک جامع طریقہ کار وضع کرے تا کہ معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر جمشید اختر شیخ نے کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے صارفین کی سکڑتی قوت خرید سے کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ رہی ہیں اور کاروباری طبقے کی مشکلات بڑھ رہی ہیں جس سے بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ اسٹیٹ بینک شرح سود میں مناسب کمی کرنے پر غور کرے کیونکہ سخت مانیٹری پالیسی اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیپرا نے دسمبر میں 60 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل کرنے کے لیے بجلی کے اکتوبر کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 4.74 روپے فی یونٹ اضافے کی سفارش کی ہے جو ان حالات میں بلا جواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے سخت اقدامات سے عام آدمی شدید مہنگائی تلے دب جائے گا اور کاروباری سرگرمیاں زوال پذید ہوں گی لہذا حکومت اس مشکل وقت میں ایسے سخت فیصلے کرنے سے گریز کرے۔
آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد فہیم خان نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود حکومت نے اس کا فائدہ عوام کو منتقل نہیں کیا بلکہ پیٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس میں اضافہ کر دیا ہے جو افسوسناک ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر عائد ٹیکسوں اور توانائی کی قیمتوں میں کمی کر کے عوام اور کاروباری شعبے کو کچھ ریلیف فراہم کرنے پر غور کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ مشکل حالات میں حکومت کاروبار کیلئے آسانیاں پیدا کرنے پر توجہ دے جس سے معیشت بہتری کی طرف گامزن ہو گی۔

 

By Editor