رئیل اسٹیٹ کے شعبہ میں بہتری کیلئے لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن ناگزیر ہے، ڈاکٹر عارف علوی

صدر مملکت کا پاکستان بین الاقوامی پراپرٹی نمائش و کنونشن سے خطاب

اسلام آباد( ویب نیوز)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ رئیل اسٹیٹ کے شعبہ میں بہتری کیلئے لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن ناگزیر ہے، وزیراعظم عمران خان کے تعمیراتی پیکیج سے صنعتی شعبے کو فروغ ملا ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور معیشت مستحکم ہوئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو پاکستان بین الاقوامی پراپرٹی نمائش و کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان سمیت پوری دنیا کو کورونا وبا کا سامنا ہے، دنیا کے مقابلے میں پاکستان میں صورتحال بہتر ہے، دنیا میں کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے، اس تناظر میں ماسک لگانے سمیت ایس او پیز پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کامیابی کے ساتھ کورونا کا مقابلہ کیا اور کاروباری سرگرمیاں بھی بحال رکھیں تاہم دنیا کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دنیا میں اشیا خوردونوش کی قیمتیں بڑھ گئیں، میڈیا سمیت پاکستانی قوم نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، پاکستان میں بڑے مخیر لوگ ہیں انہوں نے کورونا وبا کے دوران غریبوں کا خیال رکھا۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں مہنگائی ہے، حکومت مہنگائی پر قابو پانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 60 اور 70 کی دہائی میں پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن تھا۔ دنیا بھر میں پاکستان کے نام کا ڈنکا بجتا تھا تاہم ماضی میں کئے گئے اقدامات کے باعث اس کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی بزنس مینوں اور سرمایہ داروں نے دبئی میں سرمایہ کاری کی تاہم ہم نے دبئی کی پالیسیوں سے کچھ نہیں سیکھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے تعمیراتی شعبہ کیلئے اربوں روپے کا پیکیج دیا جس سے تعمیراتی شعبے کو فروغ ملا۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کیلئے وزیراعظم کے پیکیج سے اس سے منسلک ذیلی صنعتوں کو بھی فروغ ملا ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں اور مزدور کی مزدوری میں اضافہ ہوا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ گھر ہر شخص کی بنیادی ضرورت ہے، شہریوں کو مناسب قیمت پر گھر ملنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں قرضے لے کر واپس نہ کرنے کے قانون کے باعث اس شعبہ میں قرضوں کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا تھا تاہم ان مشکلات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ ماضی میں یہ صورتحال تھی کہ بینک سے قرضہ لے لو اور معاف کروا لو، اب ایسا نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ گردش میں رہنے سے معیشت ترقی کرتی ہے، مال کو جمع کرنے سے ترقی کا عمل رک جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں تعلیمی شعبے کو نظر انداز کیا گیا، پروفیشنلز ملازمتوں کی تلاش کیلئے بیرون ملک چلے گئے اور وہ بیرون ملک سے ترسیلات زر بھیج رہے ہیں تاہم مستقبل یہ ہے کہ ہمارے پروفیشنلز اپنے ہی ملک میں خدمات سرانجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات پر مبنی صنعتوں کو فروغ دے کر ادائیگیوں کے توازن کا مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے تعمیراتی شعبے کو 36 ارب روپے کا پیکیج دیا، گندم، چینی سمیت دیگر اشیا پر سبسڈی دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے ذریعے غریبوں کو ریلیف پیکیج دیا گیا ہے ۔ صدر مملکت نے کہا کہ ہم سب مل کر ٹیکسٹائل، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی ڈویلپمنٹ پر توجہ دیں، ٹیکسٹائل اور آئی ٹی کے شعبہ میں توجہ دیں تو اس سے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے اور معیشت ترقی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ کے شعبہ میں بہتری کیلئے زمینوں کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیز پر دی گئی کچی آبادیوں کی جگہ پر بلند و بالا عمارتیں تعمیر کی جائیں، ان علاقوں میں منظم ترقی ہونی چاہئے جس سے وہاں کے رہائشیوں کو اچھی رہائش مل سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کا ملک کی ترقی میں اہم کردار ہے۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے سابق چیئرمین ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی ایس ایم مینر نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کا پائیدار معیشت میں اہم کردار ہے، وزیراعظم عمران خان نے تعمیراتی شعبے کیلئے جو ترقیاتی پیکیج دیا ہے اس سے اس شعبے کو فروغ ملا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہائوسنگ کے شعبہ کی ترقی سے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچی آبادیوں کی ریگولرائزیشن ہونی چاہئے، مناسب قیمتوں پر گھروں کی فراہمی یقینی بنانی چاہئے ، ایشیا سمیت دنیا بھر میں گھروں کی ضروریات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ گھروں کیلئے آسان شرائط پر قرضہ کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے گروپ لیڈر سہیل الطاف  نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران پاکستان میں علما کرام سے مشاورت کے بعد مساجد کھلی رکھیں، ایس او پیز کے ساتھ کاروبار جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری کے مسائل مذاکرات سے حل کئے جائیں، انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک میڈان پاکستان کئی ایکسپو کا اہتمام کیا گیا۔ حکومت نے رئیل اسٹیٹ کے شعبہ کیلئے شاندار پیکیج دیا ہے اس پیکیج کو دیگر صنعتوں تک توسیع دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی پاکستان سمیت پوری دنیا کا مسئلہ ہے، نجی شعبہ کے تعاون سے لوگوں کو روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع مہیا کئے جا  سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راولپنڈی رنگ روڈ پر اکنامک زون بنایا جائے۔ پاکستان ایسوسی ایشن آف ایگزیبیشن کے بانی چیئرمین خورشید برلاس نے اس نمائش کی غرض و غائیت بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ سے منسلک ذیلی صنعتوں کو بھی ریلیف پیکیج دیا جائے۔

 

By Editor