ٹیکسٹائل کی صنعت مکمل طور پر فعال اوردیرپا ترقی کی طرف گامزن ہے،سہیل پاشا

فیصل آباد( ویب نیوز) حکومت کے مثبت اقدامات کے باعث ٹیکسٹائل کی صنعت مکمل طور پر فعال اوردیرپا ترقی کی طرف گامزن ہے ۔قوی امید ہے کہ اس سال ٹیکسٹائل برآمدات کا حجم ٢٠ ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر جائے گا۔ یہ بات پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین سہیل پاشا نے ایک بیان میں کہی ۔ملکی برآمدات میں مسلسل اضافے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کرونا وباء کی پابندیوں میں نرمی کے بعد خطے کے دیگر ممالک بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں پاکستانی برآمدی سیکٹر کی کارکردگی متاثر کن رہی ہے اور ہمارا برآمدی حجم ان علاقائی ممالک سے زیادہ رہا ہے۔تفصیلات بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا اکتوبر کے مہینے میں ملک کی مجموعی برآمدات 2.465 ارب ڈالر کی تاریخی سطح پر رہیں جبکہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 9.461 ارب ڈالر رہیں۔

اسی طرح گذشتہ سال کے مقابلہ میں اس سال اکتوبر میں ٹیکسٹائل برآمدات  24.24 فیصد اضافے کیساتھ 1.60 ارب ڈالر رہیں جبکہ جولائی تا اکتوبر ٹیکسٹائل کا برآمدی حجم 26.55 فیصد اضافے کیساتھ 6.021 ارب ڈالر رہا۔ ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ میں بڑا شیئر ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات نٹ وئیر، بیڈ وئیر، ٹاولز، ہوم ٹیکسٹائلز اور میڈ اپس کا رہا۔ برآمدات میں مقداری کمی کے حوالے سے بعض عناصر کے منفی پراپیگنڈا کو رد کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جولائی تا اکتوبر بیڈ ویئر برآمدات 21.30  فیصد اضافے کیساتھ 899.5 ملین ڈالر  سے 1091 ملین ڈالر رہیں اسی طرح ٹاولز کی برآمدات  14.17 فیصد اضافے کیساتھ  323.385 ملین ڈالر اورمقداری حجم 7.75 فیصد اضافے کیساتھ 71,701 میٹرک ٹن رہا۔ ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمدات 22.34 فیصد اضافہ  1158.6ملین ڈالر اور مقداری حجم 20.5 فیصد اضافہ سے 13,809 ہزار درجن رہا۔ میڈ اپس میں اضافے کی شرح 11.55 فیصد اور دیگر ٹیکسٹائل مصنوعات کے حجم میں 27.73 فیصد اضافہ ہوا۔ اسکے ساتھ ساتھ تقریباً 400 سے 500 ملین ڈالت تک کی مصنوعات شپس کی عدم دستیابی  اور کنٹینر ریلیز آرڈرز میں تاخیر کے باعث پورٹ پر پڑی رہیں۔ یہ مصنوعات بی اس ماہ برآمد کر دی گئیں یوں آنے والے مہینوں میں ملکی برآمدات تاریخی حد کو چھولیں گی۔ انھوں نے واضع کیا کہ برآمدات میں اضافے کی بڑی وجہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات ہیں۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ برآمدی حجم کو ماپنے کیلئے مربع میٹر یا درجن کی بجائے کلو گرام کو بطور اکائی شمار کیا جائے

۔برآمدات میں اضافے کیلئے حکومت کے مثبت اقدامات کو سراہتے ہوئے پی ٹی ای اے کے چیئرمین نے کہا کہ ایکسپورٹ فسیلٹیشن سکیم سمیت توانائی کے مسابقتی  ٹیرف کے باعث برآمدی صنعتوں کو کافی ریلیف ملا اور یہی وجہ ہے کہ برآمدی حجم میں تاریخی اضافہ ہو رہا ہے۔ ان قدامات سے جہاں ایکسپورٹرز کی مالی ضروریات پوری ہوئیں وہیں پیداواری صلاحیت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ بجلی گیس کے مسابقتی ٹیرف سے پیداواری لاگت میں کمی آئی ، صنعتی عمل تیز ہو اور برآمدات میں اضافہ ہوا۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ ٹیرف ریفارمز کو آئیندہ بھی جاری رہنا چاہیئے۔ انھوں نے واضع کیا کہ ٹیکسٹائل کی برآمدی صنعت ترقی کی طرف گامزن ہے اور ہمیں پوری امید ہے کہ رواں سال ٹیکسٹائل برآمدات کا حجم ٢٠  ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گا جو کہ ملک اور معیشت دونوں کیلئے بہت مفید ہو گا۔

By Editor