حکومت کی کسان دوست پالیسی کی بدولت ملک میں زرعی پیداوار میں اضافہ ہورہا ہے، سید فخر امام

زرعی اجناس کی برآمدات بڑھانے  کی صلاحیت سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے

وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق کی پریس کانفرنس

اسلام آباد( ویب  نیوز) وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے کہا ہے کہ حکومت کی کسان دوست پالیسی کی بدولت ملک می زرعی پیداوار میں اضافہ ہورہا ہے۔ زرعی اجناس کی برآمدات بڑھانے  کی صلاحیت سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ پاکستان کی زرعی اجناس کی برآمدات بڑھانے کی صلاحیت بہت زیادہ ہے اس سال چاول کی پیداوار 9 ملین ٹن ہوئی ہے جبکہ پچھلے سال 8.4 ملین ٹن تھی تقریباً 31 سے 32 لاکھ ٹن برآمد ہوئے اس سال ملک میں 11.5 ملین ٹن کا اسٹاک ہوگا۔ پچھلے سال  برآمدات 2.11 بلین ڈالر کی ہوئی۔ اس سال4.75 کی برآمدات متوقع ہے۔ زرعی اجناس کی برآمدات بڑھانے کی صلاحیت سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ پچھلے 5 سالوں میں پاکستان کی زیادہ برآمدات چین ، کینیا، یو اے ای، افغانستان اور سعودی عرب کو ہوتی رہی ہیں۔ پچھلے 10 سالوں سے برآمدات ہمارے لئے بہت چیلنج بنا ہوا۔7 سے 8 سال تک صرف 21 سے 25 عرب ڈالر کی برآمدات تک محدود رہے حکومت کی بہتر کسان پالیسی کی وجہ سے ریکارڈ زرعی پیداوار حاصل کررہے ہیں۔ چاول کی پیداوار میں پچھلے سال بھی ریکارڈ اضافہ  ہوا اسی طرح مکئی کی پیداوار میں بھیریکارڈ اضافہ ہوا۔ رواں سیزن گنے کی 87 ملین ٹن پیداوار متوقع  ہے  جبکہ پچھلے سال 81 ملین ٹن تھی ۔پچھلے  سال کپاس کی پیداوار 4.1 ملین گانٹھ تھا اس سال 6.1 ملین بیل ہے۔ زرعی  اجناس کی برآمدات  میں اضافے کیلئے  اقدامات کیے جارہے ہیں۔ اگر ہم ایک ہی سال  میں 2.6 سے زیادہ برآمدات بڑھا لیں تو بہت بڑی کامیابی ہے۔ اگر حکومت اور متعلقہ افراد مل کر کوششیں کریں تو ہم آسانی سے ہدف حاص کرلیں گے ۔ حکومت کی پالسیوں اور کاشتکاروں کی محنت کی بدولت  چاول کی برآمدات میں اضافے کا موقع ملا ہے۔ میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پچھلے اور اس سال ریکارڈ زرعی پیداوار ہوئی ہے۔ کاشتکاروں نے جائز منافع ملنے کی وجہ سے محنت کی ہے۔ اب چینی کم قیمت پر وافر مقدار میں دستیاب ہے۔ گنے کی کرشنگ سے چینی کی قیمت میں مزید کمی آئے گی۔ کووڈ کی وجہ سے پولٹری کی صنعت کو کافی دقت پیش آئی تھی اب حالات کافی بہتر ہیں۔ ہمارے ہاں کھانے کا تیل 90فیصد درآمد ہوتا ہے جس کی قیمتوں کا انحصار عالمی قیمتوں سے ہے۔

By Editor