ای سی اوکے ممالک کے ما بین صرف 8فیصد کی با ہمی تجا رت شدید ناکافی ہے،ایف پی سی سی آئی

کراچی (ویب  نیوز) ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں ناصر حیات مگوں نے اس حقیقت پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے 10 ملکی اتحاد کے ما بین آپسی تجا رت انکی کل تجا رتی حجم کا صرف 8 فیصد ہے؛ جبکہ دنیا بھر میں جغرافیائی طور پر ملحق ممالک اور علاقائی اتحادوں کے درمیان سرحدی اور زمینی تجارت کا حصہ 70 فیصد یا اس سے بھی زائد ہوتا ہے۔ یہ بات انہو ں نے چوتھے ای سی او بزنس فورم سے اپنا باضابطہ خطاب کرتے ہو ئے کہی جس میں اپنے اپنے ممالک کے قومی سطح کے چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (CCIs) کے تمام 10 ملکوں کے صدور نے شرکت کی۔میاں ناصر حیات مگوں نے اس بات پر زور دیا کہ ای سی او ویژن 2025 کو علا قا ئی تجارت، با ہمی سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں، بڑے پیمانے پر تجارتی نمائشوں اور بز نس ٹوبز نس رابطوں اور نیٹ ورکنگ کو بڑھانے کے لیے مکمل طور پر لاگو کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم ای سی او ویژن 2025 کو نافذ کر سکیں تو ہم چار سے پا نچ سال کی مختصر مدت میں علاقا ئی تجارت کو دوگنا کر سکتے ہیں۔میاں ناصر حیات مگوں نے ای سی او فری ٹریڈ ایگریمنٹ (ای سی او ایف ٹی اے) کے بے پناہ پوٹینشل پر بھی رو شنی ڈالی۔ انہوں نے پاکستان، ترکی اور ایران کے علاوہ دیگر رکن ممالک کے لیے مزید جامع اور مربوط انداز اپنانے پر زور دیا؛ کیونکہ با ہمی علاقا ئی تجا رت میں صرف ان تین ملکوں کا حصہ تقریبا 94 فیصد ہے۔ایف پی سی سی آئی کے صدر نے ویزا کے اجرا کے طریقہ کار کو آسان بنانے کے ذریعے خطے میں ای سی او کے رکن ممالک کے تاجروں،کا رباری برادری اور صنعت کاروں کی آزادانہ اور آسان نقل و حرکت کی ضرورت پر بھی زور دیا؛ تاکہ کاروباری برادری دوسرے علاقائی ممالک کی مارکیٹوں کو بہتر طریقے سے سمجھ سکے اور با ہمی کا روباری شراکت داری کے مواقع بھی تلاش کر سکیں۔ انہو ں نے مزید کہاکہ رکن ممالک کو آپسی کاروباری برادری کے لیے لینڈنگ ویزوں کی سہولت فوری طور پر فراہم کر دینی چاہیے؛ تاوقتیکہ ای سی او ویزا اسٹیکر سکیم تیار اور فعال نہیں ہو جاتی۔ایف پی سی سی آئی کے بین الاقوامی فورمز کے کنوینر اور ای سی او، سی سی آئی کے پاکستان چیپٹر کے سربراہ امجد رفیع نے اسلام آباد-تہران-استنبول کوریڈور کے آپریشنل ہونے کا خیرمقدم کیا اور چوتھے ای سی او بزنس فورم کو اس کے وسیع امکانات سے بھی آگاہ کیا جو پاکستان کے TIR کنونشن پر دستخط کرنے کے بعد سے پورے خطے کے لیے پاکستان کے ساتھ تجارت کرنے کے لیے میسر ہو گئے ہیں اورتیز رفتار، زیادہ موثر اور سستی لینڈ بیسڈ شپنگ اور لاجسٹک سہولیات مہیا ہو گئی ہیں۔ امجد رفیع نے صنعتی شعبے کی ترقی اور ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس سروسزمیں ای سی او ریجن میں سرمایہ کاری کے مواقع پر بز نس فورم کے سیشن کو ماڈریٹ بھی کیا۔نیشنل لاجسٹک سیل (NLC) کے جنرل منیجر شعیب خاکوانی نے حاضرین کو TIR کے تحت 12 دنوں میں اسلام آباد سے استنبول براستہ تہران پانچ ٹرکوں کی اولین اور انتہائی کامیاب زمینی نقل و حمل اور 5دنو ں میں اسلام آباد سے آذربا ئیجان براستہ تہران 2 ٹرکوں کی ایک اور کا میاب کنسائمنٹ کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف شروعات ہے اور بہت زیا دہ تجا رتی ٹرانسپورٹ کی گنجا ئش موجود ہے۔  تر کی۔پاکستان CCI کے ڈائریکٹر سہیل صالح نے سامعین کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے سال 2020 کے دوران اپنے ای کامرس کے کاروبار میں 90فیصد کی غیر معمولی ترقی کی ہے اور تقریبا 225 ملین کی آبادی جو کہ زیادہ تر نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ای کامرس کی شرح نمو کے پیش نظر پاکستان آنے والے کئی سالوں تک ای سی او کے خطے میں ای کامرس کے لیے سب سے زیادہ منافع بخش ملکوں میں سے ایک رہے گا۔

By Editor