شرح سود میں غیر معمولی اضافہ کاروبار اور معیشت کی ترقی کو بہت متاثر کرے گا۔ شکیل منیر
معاشی سرگرمیوں کو بحال کرنے کیلئے شرح سود کو کم سطح پر رکھنا ضروری ہے۔ جمشید اختر شیخ
حکومت تاجر رہنماؤں کی مشاورت سے معیشت کیلئے نئی حکمت عملی وضع کرے۔ فہیم خان
اسلام آباد (ویب نیوز )

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر محمد شکیل منیر نے کہا کہ پاکستان میں پالیسی شرح سود علاقائی ممالک کے مقابلے میں پہلے ہی زیادہ تھا اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے یکمشت اس میں مزید 150 بیسس پوائنٹس کا غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے جس وجہ سے شرح سود بڑھ کر 8.75 ہو گیا ہے جو بہت زیادہ ہے لہذا سٹیٹ بینک کا نیا اقدام کاروبار اور معیشت کی ترقی کو بہت متاثر کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جو معروف کاروباری شخصیت آصف اقبال نے چیمبر کے عہدیداران کے اعزاز میں منعقد کی۔ چیمبر کے سینئر نائب صدر جمشید اختر شیخ، نائب صدر محمد فہیم خان، سابق صدور باسر داؤد اور شیخ عامر وحید سمیت اظہر الاسلام، محمد نوید ملک، اشفاق چٹھہ، ملک نجیب، ذیشان اجمل، محمد اعظم اور دیگر بھی استقبالیہ تقریب میں موجود تھے۔


محمد شکیل منیر نے کہا کہ سنگاپور میں پالیسی شرح سود صرف 0.22 فیصد، تھائی لینڈ 0.5 فیصد، ہانگ کانگ 0.86 فیصد، جنوبی کوریا 1فیصد، ملائیشیا 1.75فیصد، انڈونیشیا 3.5فیصد، چین 3.85فیصد، بھارت اور ویتنام 4فیصد، بنگلہ دیش 4.75فیصد، سری لنکا 5فیصد جبکہ پاکستان میں 8.75فیصد ہے جو خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے کاروباری شعبے کو کتنے زیادہ شرح سود کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی شرح سود میں غیر معمولی اضافے سے نجی شعبے کیلئے بینکوں کا قرضہ بہت مہنگا ہو جائے گا جس سے کاروبار کی لاگت بڑھ جائے گی اس سیکاروبار کی توسیع اور ترقی کا عمل بہت متاثر ہو گا اور مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب ہوں گے جبکہ نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ لہذا انہوں نے پرزور مطالبہ کیا کہ حکومت معیشت کو مزید مشکلات سے بچانے کے لیے شرح سود میں اضافے پر دوبارہ نظر ثانی کرے۔
آئی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر جمشید اختر شیخ نے کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے کاروبار بہت متاثر ہوا ہے ان حالات میں ملک میں معاشی سرگرمیوں کو بحال کرنے کیلئے شرح سود کو کم سطح پر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ شرح سود میں اضافے سے مہنگائی میں غیر ضروری اضافہ ہو گا جس سے بھوک اور بے روزگاری بڑھے گی۔ اس کے علاوہ گیس کی کمی اور قرضوں کی زیادہ لاگت کی وجہ سے مجموعی قومی پیداوار مزید کم ہو گی جبکہ حکومت کا ریونیو بھی کم ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے صنعتی سرگرمیوں کی ترقی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے اور قرضہ مہنگا ہونے سے خاص طور پر ایس ایم ایز کیلئے مزید مشکلات پیدا ہوں گی لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت شرح سود میں اضافے کے فیصلے کو واپس لے۔
آئی سی سی آئی کے نائب صدر محمد فہیم خان نے کہا کہ کرونا وائرس کے باعث پاکستان کی کمزور معیشت کو بہتر بنانے کے لیے کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں کی فوری بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تاہم شرح سود میں اضافے سے کاروباری برادری کی مشکلات میں اضافہ ہو گا اور حکومت کی معیشت کو فروغ دینے کی کوششوں کو دھچکا لگے گا انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو معیشت کے بہتر مفاد میں اس فیصلے پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔
استقبالیہ تقریب میں موجود تاجر برادری کا کہنا تھا کہ حکومت کو مالیاتی محاذ پر دباؤ کا سامنا ہے کیونکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ رہا ہے جبکہ شرح سود میں اضافے سے بجٹ خسارہ مزید بڑھے گا جس سے معیشت کے لیے مزید مسائل پیدا ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت تاجر رہنماؤں کی مشاورت سے معیشت کو موجودہ مشکلات سے نکالنے کے لیے نئی حکمت عملی وضع کرے۔

By Editor