اسلام آباد۔  (ویب نیوز )
علاقائی ممالک کوپاکستانی برآمدات میں جاری مالی سال کے پہلے چارماہ میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 28 فیصدکااضافہ ریکارڈکیاگیاہے۔

پاکستان بیوروبرائے شماریات کے اعدادوشمارکے مطابق افغانستان، چین، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال اورمالدیت کو جاری مالی سال کے پہلے 4 ماہ میں 1.279 ارب ڈالرکی برآمدات ریکارڈکی گئی ہیں جو اس عرصہ میں مجموعی ملکی برآمدات کا 13.21 فیصدبنتاہے، جاری مالی سال کے پہلے چارماہ میں پاکستانی کی کل برآمدات 9.681 ارب ڈالرریکارڈکی گئی ہیں۔پڑوسی اورعلاقائی ممالک میں سب سے زیادہ برآمدات چین کوہوئیں، بنگلہ دیش اورافغانستان اس فہرست میں بالترتیب دوسرے اورتیسرے نمبر پررہے۔

اعدادوشمارکے مطابق جاری مالی سال کے پہلے چارماہ میں چین کوپاکستانی برآمدات میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 65.21 فیصد اضافہ ہوا، اس مدت میں چین کوپاکستانی برآمدات کاحجم 763.57 ملین ڈالرریکارڈکیاگیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 462.26 ملین ڈالرتھا۔اسی طرح بنگلہ دیش کو پاکستانی برآمدات کا حجم 242.51 ملین ڈالرریکارڈکیاگیا

جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 42.84 فیصدزیادہ ہے۔جاری مالی سال کے پہلے چارماہ میں افغانستان کوپاکستانی برآمدات کے حجم میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 46.47 فیصدکی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جولائی سے لیکراکتوبر2021 تک کی مدت میں افغانستان کوپاکستانی برآمدات کاحجم 158.72 ملین ڈالرریکارڈکیاگیاجو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 296.56 ملین ڈالرتھا۔

اسی طرح سری لنکا کو پاکستانی برآمدات میں 67.13 فیصدکی نموریکارڈکی گئی ہے،جاری مالی سال کے چارماہ میں سری لنکا کوپاکستانی برآمدات کاحجم 108.90 ملین ڈالرریکارڈکیاگیا جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 65.16 ملین ڈالرتھا۔اسی طرح نیپال کوپاکستانی برآمدات میں جاری مالی سال کے پہلے چار ماہ میں 108.21 فیصد اورمالدیپ کو پاکستانی برآمدات میں 41.16 فیصد کی نموریکارڈکی گئی ہے۔

اعدادوشمارکے مطابق جاری مالی سال کے پہلے چار ماہ میں سات علاقائی ممالک سے 5.568 ارب ڈالرکی درآمدات ریکارڈکی گئی ہیں جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 48.94 فیصدزیادہ ہیں، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ان ممالک سے درآمدات کا حجم 3.738 ارب ڈالرریکارڈکیاگیاتھا۔

جولائی تا اکتوبر تک کی مدت میں چین سے 5.408 ارب ڈالرکی درآمدات ریکارڈکی گئی ہیں جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 50.47 فیصد اضافہ کو ظاہر کرتی ہیں۔

By Editor