کئی شوگر ملیں چند دن چلا کر بند کر دی گئیں

بلاجواز کٹوتیاں کرکے کسانوں کو لوٹنے کیلیے وہی ہتھکنڈے استعمال کیے جس سے آئندہ سیزن گندم کی پیداوار مزید کم ہو جائے گی اور ملک قحط سالی کا شکار ہو جائے گا۔

 صدرکسان بورڈ پاکستان چوہدری شوکت علی چدھڑ اور سیکرٹری اطلاعات حاجی رمضان کا گنے کے کاشتکاروں کے وفود سے خطاب

لاہور  (ویب ڈیسک)

کسان بورڈ پاکستان کے مرکزی صدر چوہدری شوکت علی چدھڑ  اور سیکرٹڑی اطلاعات حاجی محمد رمضان نے تاندلیانوالہ،اوکاڑہ اور ساہیوال سے آئے گنے کے کاشتکاروں کے وفود سے گفتگو کرتے کہا اس سال کرشنگ سیزن لیٹ کرنے اور اربوں کے واجبات ادا نہ کرنے سے گندم کی پیداوار کم ہو گی اس سال بھی گزشتہ کرشنگ سیزن کی طرح کرشنگ سیزن کو لیٹ کیا جس سے ایک گنے کی فصل کاٹ کر لگائی جانے والے  ایک چوتھائی رقبہ پر گندم کاشت نہ ہو سکی ۔اس کے علاوہ گنے کے اربوں روپے کے واجبات نہ ملنے سے کسان اپنی گندم کی بوائی کیلیے بر وقت کھاد،بیج۔اور زرعی ادویات نہ خرید سکے جس کی وجہ سے اگلے سال گندم کی پیداوار انتہائی کم ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ اس سال بھی کرشنگ سیزن کو لیٹ کرکے ہزاروں ایکڑ رقبہ پر گندم کاشت نہیں ہو سکی جس کی وجہسے آئندہ سال گندم اور چینی کا بحران عروج پر ہوگا۔کسان بورڈ نے گزشتہ سال بھی کئی دفعہ حکمرانوں کو شوگرملوں کے ناروااور غیر قانونی رویے کی وجہ سے گندم کے بحران کے بارے آگاہ کیا مگر بے حس حکمرانوں اور شوگر مل مالکان کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی اور اس سال بھی شوگر ملوں کے ناروا رویے کی وجہ سے گندم کی پیداوار کم ہو گی ۔اسکے علاوہ کسانوں نے شوگر ملوں کے ناروا رویے سے بد دل ہو کر گنے کو بطور چارہ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور گڑ بنا کر بیچنا شروع کر دیا ہے جس وجہ سے آئندہ سال نہ صرف گندم کا بحران شدید تر ہو گا بلکہ چینی کا بحران بھی عروج پر ہوگا۔بعض ملیںجیسے تاندلیانوالہ شوگر مل ،چنار شوگر مل، چلانے کے بعد بند کر دی گئیں تاکہ گنے کے کاشتکاروں سے اونے پونے گنا خریدا جاسکے سکے ۔کئی ملوں نے گنے کی بعض اقسام پر نام نہادغیر قانونی یکطرفہ پابندی لگا کر گنے پر بے انتہا کٹوتیاں لگانا شروع کر دی ہیں ۔دلچسپ امر یہ ہے کہ ملک بھر میں حکمران  پارٹی  کے حمایتیوں کی درجنوںشوگر ملیں ہیں جو بھی کسانوں کو لوٹ رہی ہیں۔  انہوں نے کہا کہ شوگر ملوں کی لوٹ مار کے خلاف سخت کاروائی کی جائے،بند شوگر ملوں کو چلایا جائے،کٹوتیاں بند کی جائیں اور بر وقت پے منٹ کو یقینی بنایا جائے اور عدلیہ از خود نوٹس لیکر اس معاشی دہشت گردی کا  نوٹس لے۔

By Editor

جواب دیں