کوہلو (ویب ڈیسک)

محکمہ زراعت اور ڈبلیو ڈبلیو ایف کے اشتراک سے نامیاتی کپاس کی کاشت اور اہمیت وافادیت کو اجاگر کرنے کے لئے سیمینار کا انعقاد کیا گیا جہاں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع محمد رضا مری، ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سینئر پروجیکٹ بہار خان مری سمیت دیگر اسٹاف نے شرکت کی۔اس موقع پر  ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع محمد رضا مری،ڈبلیو ڈبلیو ایف کے سینئر پروجیکٹ آفیسر خالد محمود مری،آرٹسٹک ملینرزکے نمائندے میر بہار خان کالکانی نے آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوہلو میں پہلی نامیاتی کپاس کی فصل کامیابی سے تیار ہوگئی جو کہ زرعی لحاظ سے اہم کارنامہ ہے نامیاتی کپاس کی پہلی فصل مکمل قدرتی ماحول میں کاشت کی جارہی ہے نامیاتی طور پر پیدا کی جانے والی کپاس کی مارکیٹ ویلیو غیر نامیاتی طور پر پیدا ہونے والی کپاس کی نسبت دگنی سے بھی زائد ہے انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ کی پہلی نامیاتی کپاس کی جیننگ ڈبلیو ڈبلیو ایف کے تعاون سے مکمل طور پر سرٹیفائیڈ ہے اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں مکمل قدرتی ماحول میں کاشت کی جارہی ہے کوہلو زرعی اعتبار سے کافی زرخیز ہے مقررین نے زمینداروں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈبلیو ڈبلیو ایف کی جانب سے دیئے گئے ہدایات اور طریقہ کار کے مطابق فصلوں کی کاشت کویقینی بنائیں اور بتائے گئے اصولوں پر عمل کریں تاکہ کپاس کے فصل کی پیداوار میں اضافہ ہو۔ اس موقع پرزمینداروں کو ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان قابل ثبوت زراعت،فائدہ مند فصل اور معیاری خوراک کی پیداوار کے متعلق تفصیلی طورپرآگاہ کیا گیا،مقامی زمینداروں نے سیمینار کے دوران مقررین سے زراعت کے متعلق فصلوں کی تیاری کے حوالے سے مختلف سوالات کئے جس پر ڈبلیو ڈبلیو ایف کے اسٹاف نے فرداً فرداً سوالات کے متعلق تفصیلی جوابات دیئے،سیمینار میں شریک کسانوں نے نامیاتی کپاس ودیگر فصلوں کی کاشت کے حوالے سے موثر معلومات دینے پر محکمہ زراعت، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اور آرٹسٹک ملینرزکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نامیاتی کپاس کی کاشت اوربروقت آگاہی سے زمینداروں نے منافع بخش پیداوار حاصل کی ہے جس سے زمیندار خوشحال ہیں اور فصلوں کی پیداوار میں اضافہ سے زمیندار اور کسان معاشی طور پر بھی مستحکم ہوئے ہیں محکمہ زراعت ضلع میں کسانوں کیلئے موثر کردار ادا کررہی ہے۔

By Editor

جواب دیں