لاہور (ویب ڈیسک)

پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسو سی ایشنز فرنٹ (پیاف) نے کہا ہے کہ بزنس کمیونٹی کی نمائندہ تنظیموں کو مشاورتی عمل میں شامل کیا جائے۔ آئی ایم ایف کے تمام مطالبات پر عملددرآمد سے قبل سٹیک ہولڈرز سے مشاورت ضروری ہے، اگرانکے تمام مطالبات پر عمل کیا جاتا ہے تو ملکی معیشت کو800  ارب روپے کا بھاری بوجھ برداشست کرنا پڑے گا جبکہ معیشت کی موجودہ حالت میں ٹیکسوں کا اضافی بوجھ برداشست کرنے کی سکت نہیں ہے ۔سیئنر وائس چیئرمین ناصر حمید خان نے وائس چیئرمین جاوید اقبال صدیقی کے ہمراہ تاجر نمائندوں کے ایک وفد سے ملاقات میں حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی گیس و پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ سمیت اہم فیصلے تاجروں اور صنعتکاروں کے مشاورت کے بغیر مت کئے جائیں۔ناصر حمیدنے کہا کہ ٹیکس شرح میں اضافہ اور پیچیدہ ٹیکس نظام اور ڈالر کے ریٹ میں آئے روز اضافہ کی وجہ سے پیداواری لاگت میں اضافہ کی وجہ سے ملک بھر کے تاجر و صنعتکار پہلے ہی اذیت کا شکار ہیں، مزید اضافہ کی خبریں تشویشناک ہیں۔ تاجر و صنعتکار معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں مگر بیورو کریسی انھیں سہولیات دینے کی بجائے مزید مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ زیادہ پیداواری لاگت اور عالمی منڈی میں سخت مسابقت کی وجہ سے کاروباری افراد پہلے ہی مشکلات سے دوچار ہیں۔تاجروں کو اعتماد میں لئے بغیر پالیسیز کامیاب نہیں ہوتیں۔

By Editor

جواب دیں